30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَعْدَہُ شَرٌّ مِنْہُ حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلمّ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بن عَدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ ہم نے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہو کر جحاج بن یوسف کے مَظالِم کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا: ’’ صبر کرو، بے شک!تم پر آنے والا ہر دَور پہلے دَورسے زیادہ بُرا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرو گے۔ یہ بات میں نے تمہارے نبی حضور نبی اکرم، رسولِ محتشم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔ ‘‘
عمدۃُالقاری میں ہے:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے بعد والے جب کسی گناہ گار کو پکڑتے تو اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کرتے اور اس کا عمامہ اُتار دیتے۔ زِیاد کے دور میں مجرم کو کوڑے مارے جانے لگے۔ پھر مُصْعَب بِنْ زُبَیْرکے دور میں مجرم کی داڑھی مونڈھ دی جاتی۔ بشر بن مروان کے دور میں مجرم کے ہاتھوں میں کِیل ٹھوک دئیے جاتے۔پھرحجاج بن یوسف کا دور آیا تو اس نے کہا: ’’ یہ سب سزائیں بے کار ہیں ۔ ‘‘ اورپھر وہ تلوار سے گردن اڑانے لگا۔ ([2]) (معلوم ہوا کہ صاد ق اور مصدوق آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان بالکل حق ہے کہ آنے والا دور پچھلےدور سے بد تر ہوگا۔)
مختلف زمانوں کی فضیلت کی وضاحت:
سوال:حجاج بن یوسف کے زمانے کے فوراً بعد حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا دَورِخلافت تھا۔جس کی اچھائی کی شہرت چہاردانگ عالَم میں تھی۔اُس دور میں شر اور فتنے ختم ہوگئے تھے۔ پھر حجاج بن یوسف کا دور پہلے ہونے کی وجہ سے اس دورسے بہتر کیسے ہوا؟
پہلاجواب:دور کے اچھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ مجموعی اعتبار سے وہ اچھا ہوگا۔حجاج بن یوسف (ظالم وجابر تھا لیکن اس) کےزمانے میں کثیر صحابۂ کر ام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود تھے۔ جب کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد (کا دورِخلافت عدل وانصاف سے بھرا ہوا تھالیکن ان) کے دور میں سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاکوئی بھی صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُموجود نہ تھا ۔ اور جس زمانےمیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود ہوں وہ اپنے بعد والے زمانے سے اعلیٰ و افضل ہی ہوگا جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے: ’’ بے شک ! سب سےبہتر میرا زمانہ ہے ، پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔ ‘‘ ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : ’’ میرے صحابہ میری اُمَّت کے لیے امان ہیں ، جب یہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو میری اُمَّت پر وہ وقت آئے گا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ‘‘
دوسراجواب:حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی زمانے کی افضلیت کو اکثریت پر محمول کرتے ہیں لہٰذاکبھی اس کا خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ (یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہر آنے والا دورپہلے سے برا ہو۔)
سوال:حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زمانہ دَجّال لعین کے زمانہ کے بعد ہوگا۔ اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ ہر آنے والا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع