30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدراورغزوہ اُحُد میں شریک ہوئے۔آپ نےاورحضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےاس دن رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دفاع کیا۔ حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ یہ کہ تم اس سے دشمن کے چہروں پر وار کرو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ میں نےبھی وہ تلوار لینا چاہی تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے منع فرمادیااورتلوار حضرت ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دےدی ۔ میں نے دل میں کہا: ’’ میں ضرور دیکھوں گا کہ ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کیا کرتے ہیں ، پس میں ان کے پیچھے ہولیا ، انہوں نے سر پر سُرخ پٹی باندھ لی۔انصار نے کہا کہ :ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے، جب بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرخ پٹی باندھتے تو انصار یہی کہتے تھے۔پھر آپ کفا ر کے لشکر پر حملہ آور ہوئے اور جو راستے میں آیا اسے واصل جہنم کرتے گئے۔ ([1])
صحابۂ کرام کی مبارک زندگیاں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی زندگیاں دین ِاسلام کے لیے وقف کر دی تھیں ۔سفر ہویاحضر، گھر ہو یا بازار ، امن ہو یا میدانِ کار زار وہ دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل رہتے۔ اس اہم کام کے لیے انہیں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ تعداد کی کمی اور جسمانی ضعف کے باوجود محض جذبۂ ایمانی کی بدولت وہ کفار کے بڑے بڑے لشکروں سے ٹکرا جاتے۔ ننھے منے مجاہدبڑے بڑے سورماؤں کو للکارتے پھر شہید ہو کر جنت کی دائمی نعمتوں میں پہنچ جاتے یا فتح یاب ہو کر غازیوں کی صف میں شامل ہوتے ۔ اسی ضمن میں اسلام کے دو ننھے سپاہیوں کی جُرأت وبہادری کی حکایت ملاحظہ فرمائیے:
حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ بدر کے دن، میں جس صف میں موجود تھا وہاں میں نے اپنے دائیں بائیں دو نَوعُمر انصاری لڑکے دیکھے ۔ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کرمجھ سے کہا : ’’ اے میرے چچا :آپ مجھے ابو جہل دکھا دیجئے ؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اے میرے بھتیجے تم اس کا کیا کرو گے؟ ‘‘ کہا : ’’ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے عہد کیا ہے کہ اگر میں اسے دیکھوں گا تو اسے قتل کردوں گا یا میں خود قتل کر دیا جاؤں گا۔ ‘‘ اسی طرح دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھ سے اسی کی مثل گفتگو کی۔ ان کی گفتگو سن کر میں نے کہا : ’’ یہ بات مجھے پسند نہیں کہ اِن کے بجائے میں کسی اور کے درمیان ہوں ۔ پس میں نے انہیں ابو جہل کے بارے میں بتا دیا ۔ یہ سن کر وہ دونوں ننھے مجاہدعقاب کی طرح اس پر جھپٹے اور تلوار کے پے در پے حملوں سے اسے گرادیا۔ ‘‘ ([2]) یہ دونوں ننھے مجاہدحضرتِ سَیِّدُنا مُعَوَّذاور حضرتِ سَیِّدُنا مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاتھے ۔
مدارج النبوۃمیں ہے:حضرت سیِّدُنامُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ ’’ میں اپنی تلوار لہراتا ہوا ابوجہل پرٹوٹ پڑا۔میرے پہلے وار سےاس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع