دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

(1)   اپنےمسلمان بھائی کا مال نا حق لے لینا،  زکوۃ ادا نہ کرنا اور حرام مال جمع کرنا یہ سب بخل کی وجہ سے ہوتا ہے،  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بخل سے بچے ۔

(2)   زکوۃ  کی ادائیگی، مہمان نوازی اور تنگدستی میں لوگوں کو مال دینا،  یہ ایسےفضیلت والے اعمال ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ بخل جیسی  مذموم صفت سے  بری  ہو جاتا ہے ۔

(3)   حالت صحت میں کیے گئے نیک اعمال اورصدقہ وخیرات موت کے وقت  کیے  گئے  نیک اعمال  اور  صدقہ  وخیرات  سے بہت بہتر ہیں ۔

(4)   نیک بندے ہر  حال میں  اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے  خالی رکھتے ہیں ۔ ان کے دل یادِ الٰہی سے معمور رہتے ہیں ۔وہ ہر  اس چیز  سے تعلق  ختم کر دیتے ہیں جو آخرت کی تیاری میں رُکاوٹ بنے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کے صدقے ہمارے دلوں کو دنیاکی محبت  سے پاک کر  کے اپنی اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے سرشار فرمائے،  ہمیں دین  و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔

 آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:91                                                                                                                                                                                

تلوار کا حق

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ اُحُدٍ فَقَالَ:مَنْ یَاخُذُ مِنِّی ہَذَا؟  فَبَسَطُوْا اَ یْدِیَہُمْ کُلُّ اِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُوْلُ:اَنَا، أَنَا. قَالَ:فَمَنْ یَاخُذُہُ بِحَقِّہَ؟   فَاَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ أَبُوْدُجَانَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ :اَنَا اٰخُذُہُ بِحَقِّہِ، فَاَخَذَہُ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِیْنَ.  ([1])

اِسْمُ اَبِی دُجَانَۃَ: سِمَاکُ بْنُ خَرَشَۃَ. قَوْلُہُ :اَحْجَمَ الْقَوْمُ، اَیْ تَوَ قَّفُوْا. وَفَلَقَ بِہٖ،  اَیْ شَقَّ. ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ،  اَیْ رُؤُوْسَہُمْ.

ترجمہ  :حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوہ اُحُد کے دن ایک تلوار اٹھا ئی  اور فرمایا:  ’’ یہ تلوارمجھ سے کون لے گا؟  ‘‘  تو وہاں موجود ہر شخص نے ہاتھ بڑھا تے ہوئے کہا: ’’ میں ،  میں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ اسے اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟  ‘‘ پس لوگ سوچ میں پڑ گئے ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاابودُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ میں اسےا س کے حق  کے ساتھ لیتا ہوں ۔ ‘‘  پھر انہوں نے وہ لی  اور اس  سے مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں ۔

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام سِمَاک بِنْ خَرَشَہہے۔ ’’ اَحْجَمَ الْقَوْمُ ‘‘ یعنی لوگ رُک گئے۔فَلَقَ بِہٖیعنی اس کے ذریعےتوڑڈالیں ۔ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ“یعنی مشرکین کی کھوپڑیاں ۔

تلوار کے حق سے کیا مراد ہے؟

مذکورہ حدیث پاک میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟‘‘  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں حق سے مراد  یہ  ہے کہ  اس  تلوار سے جہاد کرے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّمسلمانوں کو فتح سے ہمکنار فرمائے یا وہ شہید کردیا جائے۔ یہ سن کر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رُک گئےتو حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور عرض کی: ’’



[1]   مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل ابی دجانۃ ، ص۱۳۴۰، حدیث: ۲۴۷۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن