30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے حریص کاصدقہ کرنا اور جو چیز بخل کی ان تینوں صورتوں سے بچاتی ہے وہ اس حدیث پاک میں بیان کی گئی ہے کہ وہ شخص بخل سےبَری ہوگیا جس نے زکوۃ ادا کی، مہمان نوازی کی اورتنگی و پریشانی میں لوگوں کو مال عطا کیا۔‘‘ ([1])
حریص (لالچی) کا صدقہ:
عمدۃ القاری میں ہے: ’’ حریص کے صدقے کی افضلیت بالکل ظاہر ہے کیونکہ حرص کے ہوتے ہوئے مال خرچ کرنا نفس کے لیے انتہائی تکلیف دِہ اور دُشوار اَمر ہے ۔ اور یہ اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہونے والی قوت اور یقین کامل ہی کی بدولت ممکن ہے۔ اس لیے تندرستی کی حالت میں حریص کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔ ‘‘ ([2])
عَلّامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمزید فرماتے ہیں : ’’ یعنی صحت وتندرستی اور مال کی طرف محتاجی کی حالت میں تیراصدقہ کرنا افضل ہے نہ کہ اس وقت جب توزندگی سے مایوس اور مرض الموت کی حالت میں ہو کیونکہ یہ اس حالت میں گویا کہ مال تیری ملکیت سے نکل کر تیرے غیر یعنی وُرَثہ کی ملکیت میں جاچکا ہے۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’ آد می کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت ایک سو100 درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘
علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے فرمایا: ’’ بیماری میں سخاوت کرنے سے انسان کی علامتِ بخل ختم نہیں ہوتی، اسی وجہ سےشرط لگائی گئی ہے کہ (جب صدقہ کرنے والا) تندرُست ہو، اسے مال کی حرص ہو، طویل زندگی کی اُمید اور تنگدستی کے خوف کی وجہ سے اس کے دل میں مال کی قدر و وُقعت باقی ہو۔ ‘‘ (تو اب اس کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔)
حضرتِ سَیِّدُناابو دَرْداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورسید عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جوموت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا کسی شے سے دل بھر جائے پھر اسے ہبہ کردے۔‘‘
حضرت سَیِّدُنَا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو جب بتایا گیا کہ ہشام کی بیوی نے مر تے وقت اپنے تمام غلام آزاد کر دیئے ہیں توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’ لوگ اپنے مال میں دو مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے ہیں : (۱) جب ان کے پاس اپنا مال ہوتا ہے تو بخل کرتے ہیں ۔ (۲) جب وہ مال غیر وں کا ہونے لگتا ہے (یعنی موت کے وقت ) اسے خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ صدقات ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی ضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حریص آدمی کے لیے مال خرچ کرنا بہت تکلیف دہ ہے اسی لیے اس کا صدقہ افضل قرار دیا گیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع