30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی گلدستہ
’’ شَہَادَت ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن دل وجان سے وہ عمل کرتے جس سے ربّ تعالی کی رضا ملتی اور جس پر جنت کا وعدہ ہوتا۔
(2) حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے صحابہ کو جو مسئلہ درپیش ہوتا وہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے اور اُن کا مسئلہ حل کر دیا جاتا۔
(3) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور سرورِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے علم سیکھنے میں بہت حریص تھے ۔صُحْبَتِ نبوی کی برکت سے وہ ہمیشہ رضائے الٰہی والے اعمال کی جستجو میں رہتے تھے ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے نبی محمد مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایا ہےجبھی تو آپ لوگوں کے دلوں کے اخلاص، ان کی نیتیں اورجنت و دوزخ میں ان کے مقامات کے بارے میں نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ان کے متعلق خبر بھی دیتے ہیں ۔
(5) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے اعمال ِصالحہ کی طلب میں بہت جلدی کرتے ہیں ۔ بوقت ضرورت وہ بہت جذبے اور شوق سے اپنی جانیں دین اسلام کی سر بلندی کے لیے قربان کر دیتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی نیکیاں کرنے کا جذبہ عطا فرمائے، گناہوں سے نفرت عطا فرمائے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال:جَاءَرَجُلٌ إلی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ فَقَالَ :اَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَی، وَلَا تُمْھِلْ حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَاوَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ. ([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس صدقے میں زیادہ ثواب ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تیراصدقہ کرنا اس حال میں کہ تو تندرست اور مال کاحریص ہو، تجھے تنگدستی کا خوف ہواور مالداری کی امید ہواور تو صدقہ کرنے میں اتنی دیر مت کر کہ سانس حلق تک پہنچ جائے ۔پھر تو کہے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا تھا۔ ‘‘
’’ شُحٌّ ‘‘ کے مختلف معانی:
حدیثِ مذکور میں شَحِیْحٌ کا لفظ آیا ہے یہشُحٌّسے مشتق ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے” شُحٌّ“کے مختلف معانی بیان کیے ہیں : (۱) بخل (کنجوسی) (۲) وہ بخل جس کے ساتھ حرص بھی ہو۔ (۳) ابو اسحق حربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شُحّ کی تین صورتیں ہیں :*ایک یہ کہ تو اپنے بھائی کا مال نا حق لے لے۔ *دوسریوہ جو حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ زکوۃ روکنا اور حرام مال جمع کرنا شُحّ کہلاتا ہے ۔*اور تیسریصورت وہی ہے جو مذکورہ حدیث پاک میں بیان کی گئی یعنی تندرست اور مال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع