30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنےپیارےآقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفرامین اوردینِ اسلام کی حقانیت پرایسا کامل یقین تھا کہ وہ حضراتِ قدسیہ دنیا میں رہ کر جنت کی خوشبو پا لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بد ر میں نہ جاسکے۔انہوں نے بارگاہ ِرسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! غزوۂ بد ر جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی میں اس میں حاضر نہ ہوسکا ۔ اب اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دیکھ لے گا کہ میں کیسے لڑتا ہوں ۔ ‘‘
پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا اور لوگ پسپاہو کر بھاگنے لگے توحضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، ان کی طرف سےمیں معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں میں اُن سے بَری ہوں ۔ ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتلوار لے کر میدانِ کارْ زَار کی طر ف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سَیِّدُنَا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو فرمایا: ’’ اے سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! جنت کی طرف آؤ ، مجھے اپنے ربّ کی قسم!میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ۔ ‘‘ ( یہ کہہ کر آپ کفار پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر لیا۔) اس موقع پرحضرت سَیِّدُنَاسعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو کارنامہ حضرت سَیِّدُنَاانس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےسرانجام دیا، میں ایسا نہ کر سکا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ ہم نے ان کی نعش مبارک کو اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے 80سے زائد زخم تھے۔کفارِبداطوار نے ان کی آنکھیں پھوڑ کر اور ناک، کان، ہونٹ وغیرہ کاٹ کرچہرہ اس قدر مسخ کر دیا کہ کوئی ان کی لاش کو پہچان نہ سکا ۔پھر ان کی بہن نے انگلیوں کے پَوروں کو دیکھ کر پہچان لیا۔ہم نےانہیں دیکھاتوگمان کیا کہ یہ آیت مبارکہ ان جیسوں کے حق میں نازل ہوئی ہے، جس میں ارشاد ہوتاہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ- (پ۲۲، الاحزاب: ۲۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچاکردیاجوعہد اللہ سے کیاتھا۔ ([1])
رسول اللہ کا علم غیب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوبمُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ سوال کرنا کہ اگر مجھے شہید کردیا جائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کیا رائے ہے، میں کہاں ہوں گا؟ یہ اس بات پردلالت ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کایہ عقیدہ تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعطائے الٰہی غیب کا علم جانتے ہیں ۔نیز اگر یہ عقیدہ قرآن وسنت کے خلاف تو یقینا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس صحابی کو منع فرمادیتے کہ یہ سوال نہ کرو، لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع نہ فرمایا بلکہ انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین دین ومِلَّت، پراونۂ شمعِ رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے نعتیہ کلام ’’ حدائق بخشش ‘‘ میں فرماتے ہیں :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع