30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب لوگوں کومتعجب دیکھا تو اپنے جلدی فرمانے کی وجہ ارشاد فرما دی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر آخرت کی محبت ڈال دے، ہمیں رضائے الٰہی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائےاورعشق رسول کی دولت عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:89
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَوْمَ اُحُدٍ:اَرَاَ یْتَ اِنْ قُتِلْتُ فَاَیْنَ اَنَا ؟ قَالَ:فِیْ الْجَنَّۃِ، فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، ثُمّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد کے دن ایک شخص نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ اگر میں شہید کردیا جاؤں تو آپ کی کیا رائے ہے، میں کہاں ہوں گا؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں وہیں چھوڑیں ۔ پھر جہاد کیا یہاں تک شہید کردیئے گئے۔
عُمْدَۃُ الْقَارِی میں ہے: اِبْنِ بَشْکُوَال کا گمان ہے کہ یہ شخص حضرت سَیِّدُنَا عُمَیْر بِنْ حُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ صاحبِ تَلْوِ یح نے بھی ان کانام عُمَیْر بِنْ حُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کیا ہے۔ ([2])
فَتْحُ الْبَارِیمیں ہے : حضرت سَیِّدُنَاعُمَیْر بن حُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے ہاتھ میں کھجوریں لی ہوئی تھیں ، پھر یہ کہہ کرکھجوریں وہیں چھوڑ دیں کہ : ’’ اگر میں انہیں کھانے تک زندہ رہوں تو یہ ایک طویل زندگی ہے ۔ ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جہاد میں شامل ہو گئے اورلڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کر لیا ۔اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن رضائے الٰہی پانے کےلیے اسلام کی مدد اورحصول ِشہادت میں بہت زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ ([3])
مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں ہے : ’’ اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’ اگر میں جہاد میں شہید کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟ جنت میں یا جہنم میں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘ پس اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مرتبہ شہادت اورجنت کے حصول کے لیے کھجوریں وہیں چھوڑیں اور جہاد میں شریک ہوکر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ ‘‘ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنی جانیں دیوانہ وار قربان کیا کرتے تھے۔انہیں
[1] بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ احد ، ۳ / ۳۵، حدیث: ۴۰۴۶۔
[2] عمدۃ القاری ، کتاب المغازی، باب،غزوۃ احد، ۱۲ / ۹۵، تحت الحدیث: ۴۰۴۶۔
[3] فتح الباری ، کتاب المغازی، باب،غزوۃ احد، ۸ / ۳۰۲، تحت الحدیث: ۴۰۴۶۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الجھاد، باب القتال فی الجھاد، الفصل الاول، ۷ / ۴۸۵، تحت الحدیث: ۳۹۳۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع