30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچے گا۔ جن احادیث میں گردنیں پھلانگنے کی ممانعت آئی ہے وہاں بلا ضرورت پھلانگنا مراد ہے۔ جیسے کوئی نماز کے لیے مسجد میں پیچھے پہنچے، پھر لوگوں کوچیرتا ہوا اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے یہ ممنوع ہے۔ لہٰذا احادیث میں تعارُض نہیں ۔صحابہ کر ام حضورانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہر حال شریف کا بہت غور سے مطالعہ کرتے تھے اور کسی معمولی جنبش پر دیوانہ وار گھبرا جاتے تھے۔ اگرسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خلافِ معمول کبھی غائب ہوتے تو مدینہ منورہ کی گلیوں اور آس پاس کے جنگلوں میں ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے۔آج خلاف معمول جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بغیر دعا مانگے جاتے دیکھا تو گھبرا گئے۔ ‘‘
(ارشاد فرمایا: مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے۔) ظاہر یہ ہے کہ وہ سونے کا پترا (ٹکڑا) حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی ملکیت تھا اور فوری ضرورت سے زیادہ تھا۔ اس کا گھر میں رکھنا بھی ناپسند آیا ، فوراً خیرات کرادیا۔مشغول رکھنے میں دو احتمال ہیں :ایک یہ کہ اس کی وجہ سے نماز میں دھیان بٹے کہ اسے کہاں سنبھالیں کہاں رکھیں ۔ اور دوسرا یہ کہ ر بّ تعالٰی سے قربِ خاص میں یہ حارج ہو۔ ‘‘ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے برگزیدہ بندوں کے نزدیک مال ودولت کی کچھ قدر واہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ضرورت سے زیادہ کوئی چیز اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں کرتے بلک اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک اور ایمان افروز حدیث پاک ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ
حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحُد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں تیسری صبح تک اس میں سے کچھ بچا رکھوں سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے۔‘‘([2])
مدنی گلدستہ
’’ یاغوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کسی حاجت کی وجہ سے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے ۔
(2) نیک اُمور خصوصا ًصدقہ وخیرات میں جلدی کرنی چاہیے۔
(3) نماز کے دوران جائز اُمور کا اِرادہ کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
(4) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم توکل و قناعت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز تھے، آپ اگلے دن کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ فرماتے تھے۔
عقل مندی و دانشوری کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو جس معاملے میں تشویش و تعجب ہو اس کی وضاحت کردی جائے ۔جیسا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع