دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

اوربارش کے شیریں قطرے اپنے اندر لے کر سمندر کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔وہاں اس کے شکم میں ان قطروں کی پرورش اس طرح ہوتی ہے جیسے انسانی نطفے کی پرورش ماں کے پیٹ میں ہو تی ہے ۔ پھر یہ قطرہ قیمتی موتی بن جاتا ہے جس سے زیورات بنائے جاتے ہیں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ایک سمندری درخت کے عجائبات:

اسی طرح سمندر کے اندر جھاڑ کی طرح  کا ایک سرخ درخت ہے جس کا پھل سرخ موتی ہیں ،  جنہیں مونگا یا مرجان کہا جاتا ہے ۔سمندر کی جھاگ سے عنبر بنتا ہے ۔ ان کے علاوہ بھی سمندری اشیاء میں بے شمار فوائد وعجائب ہیں ۔

سمندری کشتیوں کے عجائبات:

سمندر میں کشتیوں کے چلنے پر غور کرو،  دیکھو ان کی شکلیں کیسی بنائی گئیں کہ پانی میں غرق نہیں ہوتیں ۔ پھر کشتی بان کو یہ سمجھ دی گئی کہ وہ مخالف وموافق ہوا میں تمیز کر سکے۔پھر سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جہاں پانی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا وہاں ستارے سمتوں کی تعیین کے لیے پیدا کیے گئے۔پھرربِّ کریم کا مزیدکرم ہے کہ اس نے پانی کولطافت سے بھر پور،  خوشنمااور ملے ہوئے اجزاء والا بنایا،  پھر ان تمام حیوانات اور نباتات کی زندگی کو اس سے وابستہ رکھا۔کتنی تعجب کی بات ہے کہ اگر تمہیں شدید پیاس کے وقت پانی نہ ملے تو اپنی ساری دولت دے کر بھی اسے حاصل کرو گے،  پینے کے بعداگرجسم سے خارج نہ ہو تو اس سخت مصیبت سے نجات پانے کے لیے تم اپنا سارا مال خرچ کر نے کو تیار ہو جاؤ۔الغرض سمندروں اور پانی کے عجائب اس قدر کثیر ہیں کہ شمار سے باہر ہیں ۔ ([1])

ہواکے عجائبات میں غوروفکر:

ہوا اور اس میں پائی جانے والی اشیا ء بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بڑ ی نشانیاں ہیں ۔جب تم غور کرو گے تو معلوم ہو گا کہ ہوا بھی ایک مَوجزن سمندر ہے۔ اس میں اس قدرلطافت ہے کہ آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی یہ نظر کے لیے حجاب بنتی ہے ۔ ہوا زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔کیونکہ کھانے پینے کی حاجت تودن بھر میں ایک دو مرتبہ ہوتی ہے۔ مگر ہوا نہ ملنے پرفوراًہلاکت واقع ہو جاتی ہے ۔ لیکن اے انسان! تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس عظیم نعمت سے بے خبر ہے۔ ہواکشتیوں کو قائم رکھتی اور انہیں غرق ہونے سے بچاتی ہے۔ذرادیکھو بادل ،  بارش ، بجلی ، اولے،  گرج وغیرہ ہوا میں کیسے مُعَلَّق ہیں ۔بڑے بڑے بادلوں کوہواکیسے چلاتی ہے اورپھر یہ پہاڑوں دریاؤں اور چشموں سے دُوردَراز مقامات پر اس طرح برستے ہیں کہ ہر قطرہ بتدریج سیدھا اسی مقام تک پہنچتاہے جہاں اسے پہنچنے کا حکم ہے۔اس بارش سے جاندار سیراب ہو تے ہیں ،  فصلیں سرسبز وشاداب ہوتیں ہیں اور حسبِ ضرورت بیجوں ،  پھلوں اور میووں تک پانی پہنچتا ہے۔

 تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس لطف و کرم سے بے خبر رہ کر اس کے میوے اورپھل کھاتے ہو ۔ بارش کے ہر ہر قطرے پرلکھا ہوتا ہے کہ تجھے فلاں جگہ پہنچنا ہے،  فلاں کے لیے رزق بننا ہے ۔ بارش کے قطروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی شمار نہیں کرسکتی۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّبارش کے پانی کو پہاڑوں پربرف کی صورت میں جما دیتاہے،  پھر وہاں سے برف پگھل کر نہروں ،  دریاؤں میں پہنچتی ہے تاکہ موسمِ گرمامیں فصلوں کو بتدریج پانی ملتا رہے۔ اگریہی پانی بارش کی صورت میں ایک دفعہ ہی برس جاتا توپھر سارا سال نباتات خشک رہتے۔ الغرض برف میں بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بے شماررحمتیں ہیں بلکہ زمین وآسمان اوراُن میں موجود تمام اشیاء اس نے عدل وحکمت سے پیدا فرمائی ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے :

 



[1]    کیمیائے سعادت،۲ / ۹۱۵، ۹۱۶ ملخصا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن