30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مَعدنیات کے عجائبات میں غور وفکر:
تیسری بڑی نشانی نفیس اور قیمتی اشیاء کے معادن ہیں ، جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے پہاڑوں کے نیچے پوشیدہ کررکھا ہے۔ان میں سے بعض زیب و زینت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جیسے سونا، چاندی، یاقوت، ہیرے جواہرات وغیرہ ۔بعض سے مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں جیسے لوہا، سیسہ، تانبا، قلعی وغیرہ۔ بعض معدنیات دوسرے مفید اُمورمیں استعمال ہوتی ہیں ۔جیسے نمک ، گندھک ، مٹی کا تیل، تار کول وغیرہ۔ان میں سب سے اہم شے نمک ہے، جس سے کھانا ہضم ہوتا ہے ، اگر یہ دستیاب نہ ہو تو کھانے بے مزہ ہوجائیں گے ، لو گ بیمار پڑ جائیں گے، بلکہ اُن کی ہلاکت کا خوف ہے۔ پس اپنے کریم ربّ کی کرم نوازیوں پر نظر کرو کہ تمہیں غذائیت سے بھر پور کھانے دیئے ، پھر اُن میں مزید لذت کے لیے نمک عطا کیا۔ الغرض زمین میں موجود معادن کے عجائب و فوائد بھی بے شمار ہیں جن کا احاطہ بہت مشکل ہے ۔ ([1])
حیوانات کے عجائبات میں غورو فکر:
زمین پر رہنے والے حیوانات بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بڑی نشانی ہیں ۔ ان میں سے بعض دوپاؤں پر ، بعض چار پاؤں پر اور بعض پیٹ کے بَل چلتے ہیں ۔اب ذراپرندوں اورحَشَرَاتُ الارض کی اَقسام کی طرف نظر کرو ان میں سے ہر ایک کی شکل و صور ت مختلف ہے ۔ اُنہیں اُن کی ضرورت کی تمام چیز یں عطا کی گئیں ۔ ہر ایک کو غذا حاصل کرنے ، بچوں کی پر ورش اور اپنے گھونسلے بنانا سکھا یا ۔
چیونٹی ہی کو دیکھو کہ وہ اپنی غذا کا اہتما م کس طرح کرتی ہے۔ وہ گندم کے دانوں کودرمیان سے توڑ ڈالتی ہے تاکہ ان میں کیڑا نہ لگے اور خراب ہونے سے محفوظ رہیں ۔دھنیااگر ثابت نہ رہے تو خراب ہوجاتا ہے اس لیے اسے ثابت رکھتی ہے۔
مکڑی کو دیکھو اپنا گھر کس اندازے اور حکمت سے بناتی ہے۔ دیوار کے دو کونوں میں اپنے لعاب سے دھاگے بناکر ترتیب وسلیقے سے دھاگوں میں برابر کا فاصلہ رکھ کر اپنا گھر بناتی ہے ۔پھر ایک تار پر لٹک کر مکھی کا انتظار کرتی ہے، مکھی نظرآتے ہی اسے پکڑ کر تاروں میں جکڑ دیتی ہے پھر یہی مکھی اس کی غذا بنتی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ذرامچھرکو دیکھواس کی غذا خون ہے۔ اسے تیز، باریک اور کھوکھلی سونڈدی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارے بدن سے حسبِ ضرورت خون چوس سکے۔پھر اسے یہ پہچان دی گئی کہ جب تم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو تو فوراًاُڑجاتاہے ۔ تیز اور جلدی اڑنے کے لیے اسے دو پر دئیے گئے ہیں ۔ اگر مچھر میں عقل و زبان ہوتی تو وہ اپنے ربّ کا اتنا شکر بجالاتا کہ انسانوں کو اس پر تعجب ہوتا ۔
اب بھی وہ زبان حال سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تحمید وتقدیس بیان کرتا اور اس کا شکر بجا لاتا ہے لیکن انسان کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لاکھوں حکمتوں میں سے ایک حکمت کو پہچاننے اور اس کے بیان کرنے کی کسے طاقت ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شان ہے کہ چاہے توآنکھیں ہونے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع