30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سخاوت (3) سچائی (4) عاجزی وانکساری (5) سختی میں صبر (6) خَلْوَت میں آہ و زاری (7) مخلوق سے خیر خواہی (8) مسلمانوں پر رحم کرنا (9) موت کے بارے میں غوروفکر (10) مختلف اشیاء سے عبرت حاصل کرنا۔ ([1])
حضرتِ سَیِّدُنا مکحول شامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جب بندہ سونے لگے تواسے چاہیے کہ اپنے دن بھر کے کاموں میں غور وفکر کرے ، اچھے اعمال پر شکرِالٰہی بجا لائےاور گناہوں پرفوراًتوبہ کرے۔اگر ایسانہ کرے گا تو اُس تاجر کی مانند ہوجائے گا جوبے حساب خرچ کر تا ہے پھر اسے پتا بھی نہیں چلتا اور وہ مفلس ہو جاتا ہے۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دانائی میں اضافہ کرنے والی چیزیں :
ایک بزرگ نے فرمایا: ’’ چارچیزوں سے دانائی میں اضافہ ہوتا ہے: (1) دُنیوی مَشَاغِل سے دُوری (2) پیٹ کا خالی ہونا (3) دُنیوی ساز وسامان سے ہاتھ خالی ہونا (4) اپنی عاقبت کے بارے میں غوروفکرکرنا کہ نہ جانے اَعمال مقبو ل ہوں گے یا نہیں ۔ ‘‘ ([3])
حضرت سَیِّدُنَا امام محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’ کیمیائے سعادت ‘‘ میں تَفَکُّر سے متعلق جو مدنی پھول بیان فرمائے ہیں اُن کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
انسان کی پیدائش تاریکی و جہل میں ہوئی ہے ۔لہٰذا اسے تاریکی سے نجات ، دنیا و آخرت میں سے بہترین راہ کا تعین اور یہ بات جاننے كی حاجت ہے کہ اپنی ہی ذات میں مشغول رہنا بہتر ہے یاخدائے ذوالجلال کی یاد میں مشغول رہنا ؟ اور یہ باتیں نورِ معرفت کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتیں اور نورِ معرفت غور وفکر کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذامعلوم ہوا کہ غور وفکر تمام بھلائیوں کی اصل ہے۔ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور وفکر کا دائرہ کاربہت وسیع ہے چونکہ ہمارا مقصود دینی اُمور میں غوروفکر ہے لہٰذا اس سے متعلق چند باتیں بیان کی جاتی ہیں :
(1) مختلف اَعضاء کے بارے میں غورو فکر:
انسان کو چاہیے کہ ہر صبح کچھ دیر کے لیے اپنے مختلف اعضاءکے بارے میں غورو فکر کر ے۔ جن ناجائز وممنوع کاموں میں پڑنے کا اندیشہ ہو، اُن سے بچنے کے طریقے سوچے۔ اگر جھوٹ و غیبت وغیرہ میں زبان کے مبتلا ہونے کا خوف ہو تو ان سے بچنے کے طریقوں پر غور وفکر کرے ، حرام کھانے کا اندیشہ ہو تو اس سے بچنے کی تدبیر کرے ۔ ([5])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع