30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَفَکُّر کے بارے میں اَقوالِ بزرگانِ دین:
احیاء العلوم میں ہے: حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : ’’ غور وفکر سے پڑھی گئی دو رکعتیں پوری رات کے اُس قیام سے بہتر ہیں جس میں حضورِ قلبی نہ ہو ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنےفرمایا: ’’ تَفَکُّرایک شیشہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مبارکرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ اگر لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت میں غور و فکر کریں تو وہ کبھی بھی اس کی نافرمانی نہ کریں ۔ ‘‘ ([1])
مختلف اُمُورِ خیر کی مختلف چابیاں :
فیض القدیر میں ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہر مطلوب کے لیے ایک چابی بنائی ہے جس کے ذریعے اس تک رسائی ہوتی ہے ۔پس*نمازکی چابی طہارت، *حج کی چابی احرام، * نیکی کی چابی صدقہ، *جنت کی چابی توحید ، *علم کی چابی اچھا سوال اور توجہ سے سننا ، *کامیابی کی چابی صبر، *نعمتوں میں اضافے کی چابی شکر، *ولایت ومحبت کی چابی ذکرالٰہی، *کامیابی کی چابی تقویٰ وپرہیزگاری، *توفیق کی چابی رغبت ورہبت، *قبولیت کی چابی دعا، *آخرت میں رغبت کی چابی دنیاسے بے رغبتی، *اِیمان کی چابی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مصنوعات میں غور وفکر، *بارگاہِ الٰہی میں حاضری کی چابی دل کی سلامتی اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے کسی سے محبت یا نفرت کرنا، *دلوں کی زندگی کی چابی قرآن کریم میں غورو فکراور صبح کی وقت گریہ وزاری اور گناہوں کو چھوڑنا، *حصولِ رحمت کی چابی عبادتِ الٰہی میں حضورِ قلبی اور مخلوق کی نفع رسانی میں کوشش، *رزق کی چابی اس کے لیے کوشش واستغفار، *عزت کی چابی فرمانبرداری ، *آخرت کی تیاری کی چابی اُمید وں میں کمی، * ہربھلائی کی چابی آخرت میں رغبت اور*ہر شرکی چابی دنیا کی محبت اور لمبی اُمید ہے۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رحمتِ عالَم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ شیطان انسان سے کہتا ہے کہ آسمانوں کو کس نے پیدا کیا؟ ‘‘ وہ کہتا ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے۔ ‘‘ پھر پوچھتا ہے: ’’ زمین کس نے بنائی؟ ‘‘ وہ کہتا ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے۔ ‘‘ پھرپوچھتا ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ‘‘ تو جب شیطان تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے تو وہ فوراً یوں کہے: ’’ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَبِرُسُوْلِہیعنی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ او ر اس کے رسول پر ایمان لایا۔ ‘‘ ([3])
حضرتِ سَیِّدُنا عامر بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ آخرت میں سب سے زیادہ خوشی اُسے ہوگی جو دنیا میں سب سے زیادہ غمزدہ تھا اور سب سے زیادہ ہنسی اسے نصیب ہوگی جو دنیا میں سب سے زیادہ رونے والا تھا اوروہاں سب سے زیادہ مخلص مؤمن وہ ہوگا جو دنیا میں سب سے زیادہ غور و فکر کرنے والا تھا۔ لمحہ بھر کا تَفَکُّر سال بھر کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘ ([4])
حضرتِ سَیِّدُنا فقیہ ابو لَیث ثمر قندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ جو غورو فکر کی فضیلت حاصل کرنا چاہے اُسے چاہیے کہ پانچ چیزوں میں غور و فکر کرے: (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نشانیوں میں غوروفکر: یعنی انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور و فکر کرے کہ اس نے آسمانوں اور زمینوں کو کیسی قدرت سے بنایا۔ وہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع