30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے دن ایک ندا کرنے والا کہے گاکہ عقلمند کہاں ہیں ؟ پوچھا جائے گا : عقل مند کون ہیں ؟ کہا جائے گا:
اَلَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (۱۹۱) (پ۴، آل عمران: ۱۹۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ، اے ربّ ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا، پاکی ہے تجھے، تُو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ پھران لوگوں کے لیے جھنڈا لگایا جائے گا اور قوم اُن کے جھنڈے کے نیچے چلے گی اور منادی اُن سے کہے گا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ ([1])
(2) تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنمیں ہے : ’’ جو کوئی ستاروں کو دیکھ کر یہ پڑھے:رَبَّنَامَاخَلَقْتَ ھٰذَابَاطِلاً سُبْحَانَک فَقِنَاعَذَابَ النَّارِ اور اُن کے عجائبا ت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور و فکر کرے تو اس کے لیے ستاروں کی تعداد کے برابرنیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘ ([2])
(3) حضرت سَیِّدُنَا عامر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سنا ہے کہ ’’ تَفَکُّر (یعنی کائنات کے عجائبات اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور وفکر کرنا ) ایمان کا نور یا ایمان کی روشنی ہے۔ ‘‘ ([3])
(4) حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’ ایک گھڑی غور و فکر کرنا پوری رات کے قیام سے بہتر ہے۔ ‘‘ ([4])
(5) حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ’’ دن رات کے بدلنے میں لمحہ بھر کا غور و فکر اَسّی 80سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ‘‘ ([5])
(6) تَفَکُّرْعبادت سے اس لیے افضل ہے کہ تفکر تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچاتا ہے جب کہ عبادت اجر و ثواب تک پہنچاتی ہےتو جو چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچائے وہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تفکر دل کا عمل ہے اور عبادت دیگر اعضاء کا عمل۔ اور دل بقیہ تمام اعضاء میں زیادہ شرف والا ہے، لہذا اس کا عمل بھی دیگر اعضاء کے عمل سے افضل ہوگا۔ ([6])
(7) حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے حصہ دو۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ عبادت میں آنکھوں کا کیا حصہ ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ قرآن پاک کو دیکھنا، اس میں غور و فکر کرنا اور اس کے عجائب سے عبرت حاصل کرنا۔ ‘‘ ([7])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1] تفسیر درمنثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۲ / ۴۰۷۔
[2] تنبیہ الغافلین، باب التفکر، ص۳۰۸۔
[3] تفسیر د ر منثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱ ،۲ / ۴۰۹ ملتقطا۔
[4] العظمۃ للاصبھانی، ما ذکر من الفضل فی المتفکر فی ذلک، الجزء الاول، ص۲۹۷، حدیث: ۴۲۔
[5] تفسیر د ر منثور، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱ ،۲ / ۴۰۹ ملتقطا۔
[6] تفسیر روح البیان، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۲ / ۱۴۵۔
[7] شعب الایمان،کتاب تعظیم القران، فصل فی قراۃ القران من المصحف،۲ / ۴۰۸،حدیث: ۲۲۲۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع