30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں : ’’ اَلْمُقَارَبَۃُ:ایساعمل جس میں اِفراط وتَفْریط نہ ہویعنی میانہ رَوی اختیار کرنا۔ اَلسَّدَادُ: استقامت اختیار کرنا اور سیدھی راہ کو پہنچنا ۔یَتَغَمَّدُنِی:وہ مجھے ( فضل ورحمت ) سے ڈھانپ لے۔ علما ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ استقامت کا معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری پر ہمیشگی اختیار کرنا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان عالی جامع کلمات میں سے ہے اور اِستقامت اُمور کو سرانجام دینی والی ہے ۔ ‘‘
رحمت وفضل الٰہی سے اَعمال کی تکمیل:
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدبِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ سَدِّدُوْا کا مطلب ہے: درستگی کو پہنچو، کثرتِ عبادت اور نیکیوں پر استقامت کےذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرو۔ قَارِبُوْا:کا مطلب ہے کہ اپنے اُمور میں میانہ روی اختیار کرو ، اِفراط و تَفْریط سے بچو، راہِبانہ زندگی اختیار نہ کروورنہ تمہارے نفس اُکتا جائیں گےاورتمہارامعاشی نظام بگڑجائےگااورامورِ دنیا میں ضرورت سے زیادہ مشغول نہ ہوجاؤ، ورنہ نیکیوں سے بالکل دُور ہوجاؤگے۔اس حدیث پاک کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ نیک اَعمال کیے ہی نہ جائیں بلکہ اس فرمان سے مقصودبندوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنا ہے کہ تمام اَعمال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت و فضل سے مکمل ہوتے ہیں تاکہ لوگ اپنے اَعمال پر مغرور نہ ہوں اور اپنے اَعمال ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لیں ۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّایَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اہلِ سنت کا موقف ہے کہ ثواب و عقاب اور اَحکام عقل سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ شرع سے ثابت ہوتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی چیز واجب نہیں ، تمام عالَم اُسی کی ملکیت میں ہیں ۔وہ جوچاہے، جیسا چاہے، حکم دے۔اگر فرمانبرداروں کو عذاب دے تو یہ اس کا عدل ہے اورانہیں اِنعام و اِکرام سے نوازے اور جنت میں داخل کرے تو یہ اُس کا فضل ہے۔وہ مسلمانوں کو اپنے فضل سے جنت میں داخل فرمائے گا اور منافقین کو اپنے عدل سے عذاب دے گا اور ہمیشہ کے لیے انہیں جہنم میں داخل فرمائے گا۔یہ حدیث اِس بات پر دلیل ہے کہ کوئی شخص محض اپنے اَعمال کی وجہ سے جنت و ثواب کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ ([2]) بلکہ رَحمت ِالٰہی شرط ہے ۔
اعمال کے ذریعے دخول جنت کی وضاحت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۳۲) (پ۱۴، النحل:۳۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۷۲) (پ۲۵، الزخرف: ۷۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے۔
اِن کے علاوہ اورکئی آیات سے بظاہر یہ سمجھ آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے جنت میں داخلہ ہوگا۔ توپھرحدیثِ مذکور اور اُن آیات میں کس طرح تطبیق ہوگی؟ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں ، یہاں چند بیان کیے جاتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع