30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ آپ رات کو خوفِ خدا کے باعث اِس قدر روتے کہ ہمسائے آپ پر رحم کرتے اور جس جگہ آپ کا وصال ہوا وہاں آپ نے سات ہزار 7000مرتبہ قرآن شریف ختم فرمایا تھا۔ ([1])
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
مدنی گلدستہ
’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسْلَامِیَّہ پر ایمان لاناہے۔
(2) اُمور کی تکمیل کے لیے استقامت بہت ضروری ہے۔
(3) قلیل دائمی عمل ، کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔
(4) استقامت وہ طاقت ہے کہ جس کی بدولت مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتے ہیں ۔
(5) استقامت اختیار کرنا نیک بندوں کا شیوہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندے جو عمل خیرشروع کردیں اس پر مرتے دم تک استقامت اختیار کرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی بزرگانِ دین کے صدقے استقامت کی دولت عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جَنَّت رَحْمَتِ اِلٰہِی سے ملے گی
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا، وَاعْلَمُوْا اَنَّہُ لَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ بعَمَلِہِ، قَالُوْا: وَلَا اَنتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلّا أنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ. ([2])
وَالْمُقَارَبَۃُ:اَلْقَصْدُالَّذِیْ لَاغُلُوَّ فِیْہِ وَلاَ تَقْصِیْرَ، وَالسَّدَادُ اَلْاِسْتِقَامَۃُ وَالْإِصَابَۃُ وَیتَغَمَّدَنِی یَلْبِسُنِیْ وَیَسْتُرُ نِیْ.قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَی الْاِسْتِقَامَۃِ لُزُوْمُ طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، قَالُوْا وَہِیَ مِنْ جَوَامِعِ الکَلِم، وَہِیَ نِظَامُ الأُمُوْرِ؛ وبِاللّٰہِ التَّوفِیق.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ میانہ رَوِی اختیار کرو، اور راہِ راست پر رہو۔ اور جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی (محض) اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ہاں ، میں بھی نہیں ، مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی یہ حدیث پاک نقل کرنے کے بعد اَلفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع