دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ یعنی کہو:میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّپر ایمان لایا اور پھر اس پر قائم رہو۔ ‘‘ اِسْتَقِمایسا لفظ ہے جو تمام اَحکامات پر عمل کرنے اور تمام ممنوعہ کاموں سے رُک جانے کو جامع ہے کیونکہ بندہ حکم عدولی کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک دوبارہ تعمیلِ حکم نہ کرے۔ اِسی طرح ممنوعہ کام کے اِرتکاب سے بھی صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک توبہ نہ کرے ۔  ‘‘  ([1])

ربّ تعالی پر ایمان لانے کا معنی:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانے سے مراد سارے عقائد اِسلَامیَّہ ماننا ہیں ۔ لہٰذا اِس میں توحید و رسالت حشر و نشر،  ملائکہ جنت دوزخ سب پر اِیمان لانا داخل ہے،  جیسے کسی کو اپنا باپ مان کر اُس کے سارے اَہلِ قرابت کو اپنا عزیز ماننا پڑتا ہے کہ اُس کا باپ ہمارا دادا ہے،  اُس کی اولاد ہمارے بھائی بہن،  اُس کے بھائی ہمارے چچا تائےاور اِستقامت سے مراد سارے اَعمالِ اِسْلَامِیَّہ پر سختی و پابندی سے عمل کرنا ہے، لہٰذا یہ حدیث اِیمان و تقویٰ کی جامع ہے اور اِس پر عامل یقیناً جنتی ہے۔ ‘‘  ([2]) قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا:  ’’ یہ حدیث پاک حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جامع کلمات میں سے ہے۔ ‘‘  ([3])

اِستقامت کے متعلق اَقوالِ بزرگانِ دین :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا : ’’ رِسالہ قشیریہ میں ہے کہ اِستقامت ایسا درجہ ہے جس سے اُمور کی تکمیل اور نیکیوں کا حصول ہوتا ہے ۔جو اِسے اختیار نہ کرے  اُس کی کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اِستقامت کی طاقت صرف اکابر ہی رکھتے ہیں کیونکہ اِستقامت یہ ہے کہ انسان اپنے معمولات اور رَسم و رَواج کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اَحکامات کے مطابق کرلے۔ اِسی لیے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :  ’’ استقامت پر رہو اور تم ہر گز اُس کا اِحاطہ نہیں کر سکتے۔ ‘‘  علامہ واسطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ اِستقامت ایسا وصف ہے جس کے  پائے جانے سے اچھائیاں مکمل ہوتی ہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خوبیاں خامیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ ‘‘  ([4])

ربّ تعالٰی کے نزدیک پسندیدہ عمل:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!استقامت سے کیا جانے والا کام شریعت کو محبوب ہے ۔احادیثِ مبارَکہ میں ایسے عمل کی خوب ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا گیاکہ  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ عمل کونسا ہے؟  ‘‘ فرمایا: ’’ وہ عمل جواستقامت کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہو۔ ‘‘  ([5])

ایک رات میں ختمِ قرآن:

ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے اعمالِ صالحہ پر کیسی استقامت اختیار کی،  اس کااندازہ اس   حکایت سے لگائیے۔چنانچہ  کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا،  امامِ اعظم حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن ثابت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقنے تیس 30سال تک روزانہ ہر رات ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کیا۔ چالیس سال تک عشاء



[1]   شرح الطیبی، کتاب الایمان، الفصل الاول،۱ / ۱۳۴،تحت الحدیث: ۱۵۔

[2]   مرآۃ المناجیح، ۱ / ۳۵۔

[3]   شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام،۱ / ۸، الجزء الثانی۔

[4]   شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام،۱ / ۸، الجزء الثانی۔

[5]   بخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل، ۴ / ۲۳۷، حدیث: ۶۴۶۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن