30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ (۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۴) (پ۲۶، الاحقاف: ۱۳، ۱۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم وہ جنّت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا اِنعام۔
تفسیر کبیر میں ہے : ’’ یہ آیات اِس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لائے اور نیک اَعمال کیے توبروزِ قیامت انہیں کوئی غم و خوف لاحِق نہ ہوگا۔ وہ قیامت کے دن دَہشت و گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔ بعض نے کہا: اُنہیں گرفت کا خوف نہ ہو گا۔ البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہیبت اور جلال کا خوف کسی سے زائل نہ ہوگا۔ فرشتے گناہوں سے معصوم ہیں ، بلند درجات والے ہیں ، اِس کے باوجود اُن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف زائِل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے: ( یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ) (پ۱۴، النحل: ۵۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اپنے اوپر اپنے ربّ کا خوف کرتے ہیں ۔ ‘‘ ([1])
تفسیرِ طبری میں ہے: ’’ جنہوں نے کہا: ہمارا ربّاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر اپنی اُس تصدیق پر ثابت قدم رہے اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکام اَوَامِر ونَوَاہی کی مخالفت نہ کی ) تو بے شک اُن لوگوں پر قیامت کے دن کوئی خوف اور غم نہ ہوگا۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَنْ اَبِیْ عَمْرٍو، وَقِیْلَ:اَبِیْ عَمْرَۃَ سُفْیَانَ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْ لِّی فِی الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَاأَسْئَلُ عَنْہُ اَحَدًاغَیْرَکَ، قَالَ:قُلْ: اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ. ([3])
حضرتِ سَیِّدُنا ابوعَمْرو یاابوعَمْرہ سُفیان بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اِسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے کہ پھر آپ کے علاوہ کسی اور سے اس کے متعلق نہ پوچھوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کہو:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایا۔پھر اس پر ثابت قدم رہو۔ ‘‘
شَرْحُ الطِّیْبِی میں ہے: ’’ یعنی مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ذریعے اِسلام مکمل ہو جائے، اسلامی باتوں کی طرف رہنمائی ہو اوراُس کے حقوق کی حفاظت ہو اور آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ قُلْ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع