30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہا: ’’ اے فلانی !اس کو وہ سامان دے دو جو میں نے جہاد کے لیے تیارکیا ہے اور اس میں سے کوئی چیز مت رکھنا، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اگر تم نے اس میں سے کوئی چیز بھی نہ رکھی تو اس میں تیرےلیے برکت ہوگی۔ ‘‘
عَلَّامَہْ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’ دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ اسلم، قبیلے کےبڑےکانام ہے۔نسب کچھ اس طرح ہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارِثہ بن عَمرو بن عامربن عُوَیْمِربن عمر۔برقی نےیہ نسب اسی طرح بیان کیاہےاورخلیفہ بن خیاط نےیوں بیان کیاہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارثہ بن اِمرؤُالقیس بن ثعلبہ بن المازن بن الازد بن الغوث۔اس قبیلے میں کثیرصحابہ اورتابعین پیدا ہوئے ہیں اور اس کے بعدوالےطبقےمیں کئی علماءاورراوِیانِ حدیث اس قبیلے میں پیداہوئےہیں ۔ ([1])
صحابۂ کرام کی حکم کی تعمیل میں جلدی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل میں جلدی کیا کرتے تھے۔ کیونکہ جیسے ہی وہ صحابی وہاں پہنچے اور اپنا مدعا بیان کیا تو دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فوراً اپنی زوجہ کو وہ سامان دینے کے لیے کہا۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اس شخص نےنبی پاک صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےحکم کی تعمیل میں جلدی کرتےہوئے اپنی زوجہ سے کہا کہ اس شخص کوسواری، زادِراہ اورجوسامان میں نےتیارکیاتھااورمسافرکوجس چیزکی حاجت ہوتی ہےوہ تمام اشیاء دےدواوراس سامان میں سے کوئی چیزبھی اپنے پاس نہ روکنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگرتونےاس میں سےکچھ بھی نہ روکاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھےاس میں برکت عطا فرمائے گااور (اگرتونےاس میں سے کوئی چیز بھی اپنے پاس رکھی تو اس میں برکت نہ ہوگی) کیونکہ اِس صورت میں یہ مالک کی رضامندی اور خواہش کےبغیر تصرف کرنا ہےکیونکہ اُس نےتو وہ تمام چیزیں اس شخص کودینے کا حکم دیا ہےجسے سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے بھیجا ہےپس جب تم نےاس کےحکم کی مخالفت کی اوراس شخص کےلیےان اشیاکوزیادہ گمان کرتےہوئےان میں سےبعض چیزوں کواس سے روک لیاتو تمہارے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ ‘‘ ([2])
نیکی کی طرف رہنمائی اور باب سے مناسبت:
اِس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس شخص کی بھلائی کی طرف رہنمائی فرمائی جوجہادمیں شریک ہونےکاخواہش مندتھالیکن سازوسامان نہ ہونےکی وجہ سےجہادمیں جانے سے قاصرتھاایک ایسے شخص کی طرف جس نےجہادمیں جانےکی تیاری کی تھی مگربیماری کےباعث جہادمیں شریک ہونے سے قاصر ہوگیا تھا۔اس حدیث پاک کی اس باب سےیہی مناسبت ہےکہ اس میں بھلائی کی طرف رہنمائی کاذکرہے۔ ([3])
کوئی نیک کام مُتَعَذَّرہوجائے تو۔۔۔!
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں بھلائی پر رہنمائی کرنے کی فضلیت کو بیان کیاگیا ہےاور اس بات کو بھی بیان کیاگیاہےکہ انسان جب اپنےمال کوکسی نیک کام میں خرچ کرنے کی نیت کرلےاورپھرکسی عذرکی بناپروہ نیکی اس کے لیےمُتَعَذَّر (بہت مشکل) ہو جائے تو اس شخص کے لیے مستحب ہے کہ اپنےمال کوکسی دوسرےنیک کام میں خرچ کر دے بشرطیکہ اس نےاس نیکی کی نذرنہ مانی ہوجواس کےلیےمُتَعَذَّرہوگئی۔ ([4]) (اگراس نےاس نیک کام کی نذر مان رکھی ہےتوعذرختم ہونےکاانتظار کرےاورمانع ختم ہوتےہی اپنی نذرکوپوراکرے، وہ مال کسی
[1] دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱ / ۴۵۳، تحت الحدیث: ۱۷۷۔
[2] دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱ / ۴۵۴، تحت الحدیث: ۱۷۷ماخوذا۔
[3] دلیل الفالحین، باب فی الدلالۃ علی الخیر والدعاءالی ھدی اوضلالۃ، ۱ / ۴۵۳، تحت الحدیث: ۱۷۷ماخوذا۔
[4] شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ ، ۷ / ۳۹، الجزءالثالث عشر ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع