30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) دونوں نبوت کی علامتیں ہیں ۔
(2) سُرخ اونٹوں کی مثال عرب لوگ بطورِ تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک یہ قیمتی مال ہے۔
(3) قرآن وسنت میں جہاں بھی اُخروی اُمور کو دُنیوی اُمور سے تشبیہ دی جاتی ہے وہاں سمجھانا مقصود ہوتا ہے نہ کہ اِن اُمور کی حقیقت مراد ہوتی ہے۔
(4) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا جذبۂ جہاد صدکروڑ مرحباکہ شدیدمرض کی حالت میں بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت کے لیے حاضر ہوجایا کرتے تھے۔
(5) کسی دینی معاملے میں سوتے ہوئے بھی سوچ بچار کرنا عبادت ہےجیسا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ساری رات یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں وہ خوش نصیب کون ہوگا؟ جسے کل صبح رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجھنڈا عطا فرمائیں گے۔
(6) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بہت ہی عظمت وشان والے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتح خیبر کے لیے آپ کا انتخاب فرمایا، نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو ایسی طاقت عطا فرمائی ہے کہ جس دروازے کو آپ نے اکیلے اکھاڑ لیا اسے ستر70آدمی بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔
(7) مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک لعابِ دہن سے 2دائمی برکتیں حاصل ہوئیں کہ ایک تو آپ کی آنکھیں دوبارہ کبھی نہ دُکھیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سردی گرمی کا احساس نہ ہوتاتھا۔
(8) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک لعاب دہن پاکیزہ اور بیماریوں سے نجات دینے والا ہے۔
(9) جنگ کرنے سے قبل کفار کو دعوت اسلام دینا واجب ہے، اگر پہلے دے چکے ہیں تو اب دعوت دینا مستحب ہے، کیونکہ جہاد کا مقصود اسلام کی دعوت کو عام کرنا ہے۔
(10) اسلام دہشت گردی، بدامنی وجنگ وجدال پر نہیں اُبھارتا بلکہ اسلام تو امن وآشتی اور بھائی چارے کا درس دیتاہے، جبھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو جنگ سے قبل نرمی سے بات کرنے اور اسلام کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےنقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی دینی امور میں ان جیسا عظیم جذبہ عطا فرمائے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے فیضان سے ہمیں بھی مالا مال فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:176
بھلائی پررہنمائی کرنا رسول اللہ کی سُنَّت ہے
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ ، اَنَّ فَتًی مِنْ اَسْلَمَ قَالَ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ، اِنِّی اُرِیۡدُ الْغَزْ وَ وَلَیْسَ مَعِی مَا اَتَجَہَّزُ بِہٖ، قَالَ: ائْتِ فُلَانًا، فَاِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ، فَمَرِضَ، فَاَتَاہُ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ: اَعْطِنِی الَّذِی تَجَہَّزْتَ بِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ، اَعْطِیہِ الَّذِی تَجَہَّزْتُ بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی مِنْہُ شَیْئًا، فَوَاللہِ لَا تَحْبِسِیْنَ مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارَکَ لَکِ فِیۡہِ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ قبیلہ َ اسلم کے ایک نوجوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں جہادکرنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا۔ ‘‘ وہ نوجوان اس شخص کے پاس آیا اور کہا کہ ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے آ پ کو سلام ارشاد فرمایا ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ مجھے وہ سامان دے دیں جو آپ نےجہاد کے لیے تیار کیا ہے۔ ‘‘ اس شخص نےاپنی زوجہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع