30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنگ سے پہلےدعوت اسلام دینےکی شرعی حیثیت:
فیوض الباری میں ہے: ’’ اس حدیث سے واضح ہواکہ اسلام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ کفار اور مشرکین کو قتل کردیاجائےبلکہ ان کی بھلائی اور آخرت میں کامیابی کےلیے ان کی ہدایت مقصود ہے۔ اسی لیےنبی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔جمہورفقہائے اسلام کا مذہب یہ ہے کہ کفار سے جہاد کرنے سے پہلے انہیں دعوت اسلام دینا واجب ہے اور اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دی جاچکی ہے تو جنگ سے پہلے دوبارہ دعوتِ اسلام دینا مستحب ہے۔سَیِّدُنَا امام مالک کا صحیح مذہب اور امام شافعی کا قول جدیداور سَیِّدُنَا امام ابوحنیفہ، امام اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ملک العلماء علامہ کاشانی عَلَیْہِ الرَّحْمَہنے لکھا ہے کہ اگر کفار کو پہلے دعوتِ اسلام نہ پہنچی ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ زبانی اُنہیں دعوتِ اسلام دیں ۔سورۂ نحل کی آیت 125میں اللہ تَعَالٰینے فرمایا ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ- ( پ ۱۴، النحل :۱۲۵)
ترجمہ : حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دیجئے اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو کہ جو سب سے بہتر ہو۔
اگر اُن کے کچھ شکوک وشبہات ہوں تواُن کو دُور کردوتاکہ حجت تمام ہوجائےنیز جہاد کا مقصد کفار کو قتل کرنانہیں ہے بلکہ جہاددعوتِ اسلام کی بنا پر فرض ہے۔اگر تبلیغ سے وہ اسلام کو قبول کرلیں تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟ زیر بحث حدیث میں حضورکا یہ ارشاد کہ: اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔اسی امر کا آئینہ دار ہے۔ ‘‘ ([1])
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کالُعَاب دَہن:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کےمختلف اجزاء کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
*… ’’ تقدیر الٰہی یہ ہے کہ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) فاتح خیبر ہوں اور اس فتح کا سہرا اُن کے سر رہے ورنہ اور صحابی بھی فتح کرسکتے تھے۔جس پر حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہاتھ رکھ دیتے وہ ہی فتح کرلیتا، اِنہیں صحابہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) نے یرموک اور قادسیہ جیسی جنگیں فتح فرمائی ہیں ۔
*… (اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسو ل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے محبت کرتے ہیں ۔) یعنی اللہ رسول اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہونا پسند کرتے ہیں ۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تو اللہ رسول کو پیارے ہیں باقی تمام صحابہ اورحضرت فاطمۃ الزہرا، حسنین کریمین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) خدا کو پیارے نہیں ، خدا تعالٰی ان سب سے ناراض ہے نَعُوْذُ بِاللّٰه۔
*… (صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے وہ را ت اس غوروخوض میں گزاری کہ جھنڈا کس کو عطا کیا جائے گا۔) یعنی تمام صحابہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) نے رات بھر صبح کا انتظار کیا کہ دیکھیں کس کی قسمت چمکتی ہے، صبح کو تمام صحابہ اِسی امید میں حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سامنے پیش ہوگئے مگر یہ سعادت تو حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نصیب میں تھی، چونکہ اس سعادت کے ملنے کی تمنا کرنا، اس کا رات بھر انتظار کرنا بھی عبادت تھا اس لیے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے صراحۃً حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کا نام نہیں لیا تاکہ سب لوگ انتظار اور تمنا کرکے ثواب پائیں ۔
*… (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ ) حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اس لیے وہ فجر کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے، اپنے خیمے میں رہے، حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بطورِ تعجب پوچھا کہ اِس مبارک موقعے پر علی کیوں نہیں ، یہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی (اس وقت) مدینہ منورہ میں تھے، حضور نے پکارا: اے علی! میری مدد کو پہنچو، میرا ساتھ صحابہ نے چھوڑ دیا، آپ مدینہ سے اُڑ کر خیبر پہنچے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰه! یہ سب روافض کا بہتان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع