30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمہارے ہاتھوں پر فتح عطافرمائے گا۔ ‘‘ حکم ملتے ہی سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتیزی سے روانہ ہوئے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تھاحتی کہ آپ نےقلعہ کے نیچے پتھروں میں جھنڈاگاڑدیا۔ایک یہودی نےقلعے کے اوپر سے دیکھاتو پوچھا: ’’ تم کون ہو؟ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میں علی بن ابی طالب ہوں ۔ ‘‘ یہودی نےکہا: ’’ اس کتاب کی قسم جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمائی ہے! تم غالب آجاؤگے۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماسی وقت واپس تشریف لائے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح فرمادیا۔ ([1])
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِکْمَالُ الْمُعْلِمْ میں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت کی علامتوں میں سے دوعلامتوں کا بیان ہے:قولی وفعلی: (1) قولی تو یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کی غیبی خبر دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ہاتھ پر خیبر فتح فرمائے گا اور پھر بفضل الٰہی ایسا ہی ہوا۔ (2) فعلی یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی دُکھتی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا اور ان کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہوگئیں ۔ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُرخ اُونٹوں کی مثال دینےکامقصد:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سُرخ اُونٹ عربوں کے نزدیک انتہائی قیمتی اور پسندیدہ مال شمار کیا جاتا تھا، عرب لوگ اس کونفیس (قیمتی) چیزکی مثال دینے کے لیے بطورِمُحاورہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں پرآخرت کے اُمورکودنیاکی چیزسے تشبیہ دینا فقط بات سمجھانے کےلیےہےورنہ حقیقۃً دونوں میں کوئی برابری نہیں کیونکہ باقی رہنے والی آخر ت کاایک ذرہ بھی دُنْیَاوَمَافِیْھَا سے بہترہے۔ ‘‘ ([3])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی اس حدیث پاک کےتحت لکھتےہیں کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غلام حضرت سَیِّدُنَا ابو رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جس دن حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃُ الِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو جھنڈےکےساتھ بھیجا اس دن میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہی تھا، جب ہم قلعے کے قریب پہنچےتو یہود خیبر کےقلعے سے نکل آئے، سخت جنگ ہوئی، ایک یہودی نے آپ کے ایک ہاتھ پر کوئی چیز ماری جس سے ڈھال گر گئی آپ نے قلعے کا دروازہ اٹھالیااور اُسے ڈھال کی طرح استعمال فرمایا ، خیبر فتح فرمانے کے بعد اُسے سات آدمیوں نے اُٹھانا چاہا میں اُن میں آٹھواں تھا مگر بہت کوشش کے باوجودوہ ہل نہ سکا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے اس دروازے کو چالیس آدمیوں نے اٹھانا چاہا مگر نہ اٹھا سکے۔بعض روایات میں ہے کہ اس دروازے کو ستر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی نہ اٹھا سکے۔ ([4])
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لُعاب دہن کی برکتیں :
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’ جب سے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لُعاب
[1] عمدۃ القاری، کتاب الجھادوالسیر، باب دعاءالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔الخ،۱۰ / ۲۶۳، تحت الحدیث: ۲۹۴۲۔
[2] اکمال المعلم ، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی ابن ابی طالب، ۷ / ۴۱۶، تحت الحدیث: ۲۴۰۶۔
[3] شرح مسلم للنووی،کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،۸ / ۱۷۸، الجزء الخامس عشر۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناقب والفضائل،باب مناقب علی بن ابی طالب ،۱۰ / ۴۶۱،۴۶۰، تحت الحدیث: ۶۰۸۹ ملخصا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع