30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں یہ جھنڈا اُس شخص کودوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّخیبر فتح فرمائےگا۔ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو ل صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ساری را ت یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں صبح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس کو جھنڈا عطا فرماتے ہیں ۔جب صبح ہوئی تو تمام لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوگئے، ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ کاش یہ جھنڈااُسے دیاجائے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا: ’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا: ’’ انہیں بلاؤ۔ ‘‘
چنانچہ سَیِّدُنَا علی المرتضیٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کولایا گیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی آنکھوں میں اپنا لُعاب مبارک لگایا اور دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہوگئیں گویا کبھی دردتھاہی نہیں ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا۔سَیِّدُنَا مولاعلی شیرخدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیامیں کفارسے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل ( مسلمان ) نہ ہوجائیں ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم اُن کے میدان میں اُتر جاؤ ، پھراُنہیں اسلام کی دعوت دواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں انہیں آگاہ کرو، خدا کی قسم! اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارےلیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول سے محبت:
حدیث پاک میں ہے: ’’ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو ل صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی وہ دو وَصفوں کا جامع ہے اور دو متلازم شرفوں کو پانے والا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے محبت فرماتا ہے اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہیں ۔بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت یہ ہےکہ وہ اسے اپنی رضاکے کاموں کی توفیق دےاور اس پر ثابت قدمی عطافرمائےاور بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ورسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت یہ ہے کہ وہ ان کے حکم پر عمل پیرا ہواور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں کہ یہ سات ( 7) ہجری کے ابتدا کا واقعہ ہے۔سَیِّدُنَا موسیٰ بن عُقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبیان فرمایاکہ جب رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں تقریباً 20روزقیام فرمایا، پھر خیبر کی طرف خروج فرمایا جس کی فتح کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ سےوعدہ فرمایا تھا۔سَیِّدُنَاعَمروبن اکوع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو خیبر کےایک قلعے کی طرف بھیجا انہوں نے جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی اور وہ لوٹ آئے، پھر اگلے دن حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھیجاانہوں نے بھی جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی تو آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کودوں گا جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم محبت کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے، اس کے ہاتھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّقَلعۂ خیبر فتح فرمائےگااور وہ خالی ہاتھ واپس نہ آئے گا۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا سَلْمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان فرماتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوبلایااور اُس دن اُن کو آشوبِ چشم تھاتو نبی پاک صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اُن کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا پھر فرمایا: ’’ یہ جھنڈالواور خیبر کی طرف روانہ ہوجاؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع