30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی گلدستہ
جنت کے 8دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اس کی رہنمائی سے نیکی کرتے رہیں گے، اسی طرح برائی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اس کی رہنمائی سے گناہ کرتے رہیں گے۔
(2) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے کو رہنمائی کرنے کا ثواب مل جائے گا اب جس کی رہنمائی کی وہ نیکی کرے یا نہ کرے۔
(3) بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں اور بہت بدقسمت ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی گمراہی وبربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی بھی اُمَّتی آپ کے اعمال وثواب کے برابر ہر گز نہیں ہوسکتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامۂ اعمال میں قیامت تک بے حدوبے حساب ثواب داخل ہوتا رہے گا۔
(5) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے عظام، چاروں ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ثواب میں بھی قیامت تک اضافہ ہوتارہے گا کہ ان کی رہنمائی سے لوگ اَحْکَامِ شَرْعِیَّہ وغیرہ پر عمل کررہے ہیں اور تاقیامت کرتے رہیں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(6) کسی بُرے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر اس سے توبہ کرلے، اس بُرے عمل کو روکنےیا اس رہنمائی کے سبب بُرے اَعمال کرنے والوں کو حتی المقدور روکنے کی کوشش کرے تو اب اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس سابقہ بُرے طریقے پر رہنمائی کرنے کا گناہ نہیں ملے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(7) بندے کو چاہیے کہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتا رہے کہ کسی بھی گناہ کی سچی پکی توبہ کرنے سے اُس گناہ کے وبال سے نجات مل جاتی ہے۔
(8) کتنے اچھے ہیں وہ لوگ جن کے انتقال کے ساتھ ہی ان کے گناہ بھی مرجاتے ہیں اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو خود تو مرجاتے ہیں لیکن ان کے گناہوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں لوگوں کوبھلائی والے کاموں کی طرف بلانے، علم دین سکھانےاور گناہوں سے بچانے کی توفیق عطافرمائےاور ہمیں ایسے تمام اعمال کی طرف رہنمائی کرنے سے محفوظ فرمائے جو ہمارے لیے گناہ جاریہ کا سبب ہوں ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:175
کُفَّار کو دَعوتِ اِسلام کی ترغیب
عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَہۡلِ بۡنِ سَعْدٍالسَّاعِدِیِّ، رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ:لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًارَجُلًا یَفْتَحُ اللہُ عَلَی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوۡلَہُ وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوۡلُہُ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوۡکُوۡنَ لَیْلَتَہُمْ اَ یُّہُمْ یُعْطَاہَا، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُوۡلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کُلُّہُمْ یَرْجُوۡ ا اَنْ یُّعْطَاہَا، فَقَالَ اَ یْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ؟ فَقِیۡلَ:یَا رَسُوۡلَ اللہِ ھُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ، قَالَ فَاَرْسِلُوۡا اِلَیْہِ، فَاُ تِیَ بِہِ، فَبَصَقَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، وَدَعَا لَہُ فَبَرَاَ، حَتَّی کَاَنْ لَّمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَاَعْطَاہُ الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ اُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَکُوۡنُوۡا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ:انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ، حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ، وَاَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللہِ تَعَالٰی فِیۡہِ، فَوَاللہِ لَاَنْ یَّہْدِیَ اللہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ . ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے غزوۂ خیبر کے دن ارشادفرمایا: ’’ کل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع