30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) عبادت وریاضت کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، حضرت سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق اور حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاِن چاروں ائمہ نے اُمّتِ مُسْلِمَہ کے لیے قرآن وحدیث سے بالتفصیل اَحکامِ شَرْعِیَّہ اَخذ کیے، لہذا اِنہیں تو اِن کے اِس نیک عمل کا ثواب ملے گا ہی لیکن قیامت تک جوجو لوگ اُن کے اَخذ کردہ مسائل پرعمل کرتے رہیں گے اُن تمام کاثواب انہیں بھی ملتا رہے گا۔ اِن چاروں ہستیوں بالخصوص امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجو تابعی بھی ہیں ، اِن کے خلاف زبان طعن دراز کرنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تو انہیں وہ مقام ومرتبہ عطا فرمایا کہ قیامت تک ان کے نامۂ اَعمال میں نیکیوں اور ثواب کا خزانہ جمع ہوتا رہے اور اِن پر طعن کرنے والے اپنے نامۂ اعمال میں گناہوں کے اَنبار لگارہے ہیں ، کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی سیرتِ طَیِّبَہ کو بطریق اَحسن بیان کرتے ہیں ، اُس پر عمل کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ثواب میں اضافہ کرتے ہیں اور کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو مَعَاذَ اللہ اِن مقدس ہستیوں کے خلاف زبانِ طعن دراز کرکے رحمت الٰہی سے دُوری جیسی نحوست میں مبتلا ہوتےہیں اور اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بے ادبی، بے ادبوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے، نیک اور باادب لوگوں کی اچھی صحبت عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
گناہ کی طرف رہنمائی کرنےوالے کی توبہ!
کسی بُرے وگناہ والے عمل کی طرف رہنمائی کرنے والا شخص اگر اپنے اس عمل سے توبہ کرلے تو اب اُسے اُس عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ، اِسی طرح نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر بُرائی میں مبتلا ہوجائے تو اُس کے ثواب کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ کسی گناہ کی طرف رہنمائی کرنے والا اگر خود اس گناہ سے توبہ کرلے ، اگرچہ دیگر لوگ اس پر عمل کرتے رہیں تو کیا اس کی توبہ سے بُرائی کی طرف رہنمائی کرنے کا گناہ معاف ہوجائےگا؟ کیونکہ توبہ پچھلے گناہوں کو مٹادیتی ہے، یا معاف نہیں ہوگا؟ کیونکہ توبہ کی شرط یہ ہے کہ مظلوم کی لی ہوئی چیز اسے لوٹائی جائے اور گناہ کو چھوڑ دیا جائے جبکہ یہاں جس گناہ کی طرف رہنمائی کی گئی تھی وہ تو باقی ہے اور ا س کی نسبت اس شخص کی طرف ہی ہے، گویا اس شخص نے مظلوم کا حق نہیں لوٹایا، نہ ہی گناہ سے رُجوع کیا۔ اس کے جواب میں علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ اس کا گناہ معاف ہوجائے گا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ اس کی توبہ صحیح نہیں ، حالانکہ ایسا قول کسی نے نہیں کیا ۔جہاں تک مظلوم کا حق لوٹانے کی بات ہے تو اگر ممکن ہے تو لوٹا دے اور حتی المقدور جتنا ممکن ہو گناہ ترک کر دے۔پس جب اس نےتوبہ کرلی اور گناہ سے نادم ہوگیاتوگناہ کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا جیسا کہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرنےوالااگربرائی میں مبتلا ہوجائےتوپھراس کےلیےبھلائی کی طرف رہنمائی کا ثواب منقطع ہوجاتاہے۔اسی طرح کثیرکفار اسلام سے قبل گمراہی کی طرف بلاتے تھےلیکن اسلام لانے کے بعد اُن کےگناہ معاف ہوگئےتوتوبہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہےبلکہ اس سےبھی زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ حدیث پاک میں ہےکہ گناہ سےتوبہ کرنےوالا ایساہے جیسےاس نےگناہ کیاہی نہیں ۔ ‘‘ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص پہلے پہل کوئی بُرا طریقہ ایجاد کرے گا تو قیامت تک جتنے لوگ اس طریقے پر عمل کریں گے ، ان سب کا گناہ اس شخص کے اَعمال نامے میں لکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے بعض بزرگ فرماتے ہیں : ’’ ایک کھوٹا روپیہ دھوکے سے چلادینا سو کَھرے روپوں کی چوری سے کہیں بدتر ہے۔ ‘‘ کیونکہ سو روپے کی چوری ایک ہی گناہ ہے جو کہ چرانے والے کی اپنی ذات تک محدود رہتا ہے کہ فقط اسے اپنی ہی چوری کا گناہ ملے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع