30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنےسےبچیں۔‘‘([1])
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیرخزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی خلق کو دین ِاسلام کی دعوت دو۔پکی تدبیر سے وہ دلیل محکم مراد ہے جو حق کو واضح اور شبہات کوزائل کردے اور اچھی نصیحت سےترغیبات و ترہیبات مراد ہیں ۔ ‘‘ ([2])
(3) نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مددکرو
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- ( پ ۶، المائدۃ :۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پرایک دوسرے کی مدد کرو۔
اِمَام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیتفسیردرمنثور میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ بِرْ یعنی بھلائی سے مراد ( اُن کاموں کا کرنا ہے ) جن کا حکم دیا گیا ہے اور تقویٰ یعنی پرہیزگاری سے مراد (اُن کاموں سے رُکنا ہے) جن سے منع کیا گیا ہے۔حضرت سَیِّدُنَا امام احمد، عبد بن حمید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں اور سَیِّدُنَا امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی تاریخ میں حضرت سَیِّدُنَا وابصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک روایت نقل کرتے ہیں ، فرمایا: میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ نیکی اور گناہ میں سے ہر ایک کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کروں گا۔جیسے ہی میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے دلی ارادے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے مجھ سےفرمایا: ’’ يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ أَمْ تَسْأَلُ؟ یعنی اےوابصہ!کیا میں تمہیں بتادوں کہ تم مجھ سے کیا سوال کرنے آئے ہویا تم خود ہی سوال کرو گے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ ہی ارشاد فرمادیجئے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کر نے آئے ہو۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی تین انگلیوں کوجمع فرمایا اور انہیں میرے سینے میں مارتےہوئے فرمایا: ’’ اے وابصہ! اپنے دل سے فتویٰ طلب کر، اپنے نفس سے فتویٰ طلب کر، نیکی وہ ہے جس سے دل اور نفس مطمئن ہوجائے، گناہ وہ ہے جوتیرے دل میں کھٹکےاورتیرے سینے میں شک پیداکرے، اگرچہ لوگ تجھے فتویٰ دیں اور توفتویٰ دیاجائے۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(4) مسلمانوں کاایک گروہ بھلائی کی طرف بلاتا رہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ ( پ۴، ال عمران :۱۰۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں ۔
حافظ عمادالدین ابن کثیر دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاامام محمد باقِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی اور اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ خیر سے مراد قرآن کریم اور میری سنت کی اتباع کرنا ہے۔ ‘‘ اوراس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اِس اُمَّت میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو اِسی کام میں مشغول رہے ، اگرچہ اُمَّت میں سے ہرشخص پر واجب ہے کہ وہ اپنی طاقت کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع