دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

بُرا کام ایجاد کرنے والے کی مثال اورتوبہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے مضمون سے یہ واضح ہوا کہ جو شخص کسی بھی بُرے طریقے کو ایجاد کرے گا تو اُس بُرے طریقے کو اِیجاد کرنے والے اور اُس پرعمل کرنے والے کو اپنے اُس عمل کا تو گناہ ملے گا لیکن ساتھ ہی اُن تمام لوگوں کے عمل کا بھی اُسے گناہ ملے گا جو اس طریقے پر عمل کرکے گناہ میں مبتلا ہوئے۔مثلاً  کوئی شخص مَعَاذَ اللہ گانے باجے کی تباہ کاریوں میں ملوث تھا،  اس نے اپنے گانوں کا ایک البم یا سی ڈی وغیرہ جاری کردی۔اب اس گانے والے کو تو اپنے اس گانے اور البم یا سی ڈی وغیرہ جاری کرنے کا گناہ ملے گا لیکن اُس البم یا سی ڈی وغیرہ کو جو جو لوگ سنتے رہیں گے اُن تمام کا گناہ بھی اسے ملتا رہے گا کیونکہ اُس بُرے کام کو اِسی نے ایجاد کیا۔اسی طرح اگر کوئی شخص کاروبار کے اندر دھوکہ فراڈ،  چوری، خیانت وغیرہ کرتا ہے،  لوگوں کو یہ تمام گناہ سکھاتا ہے اور دیگر لوگ بھی اُس سے سیکھ کر اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں تو اِسے اپنے اِن تمام بُرے اعمال کا تو گناہ ملے گا لیکن جو لوگ اِس کے سکھانے کی وجہ سے اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوئے اُن کو اُن کے عمل کا گناہ ملنے کے ساتھ ساتھ اِسےبھی اُن کا گناہ ملتا رہے گا۔

یہاں ایک اہم بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بُرا طریقہ اِیجاد کرنے والا یا جس کے سبب لوگ کسی بُرے طریقے پر عمل کرنا شروع کردیں ،  اگر اُسے اپنے اُس بُرے عمل پر شرمندگی ہوئی،  ندامت ہوئی اور اُس نے اُس بُرے طریقے یاعمل سے توبہ کرلی تو کیا اب بھی اُن لوگوں کا گناہ اُسے ملتا رہے گاجو لوگ اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے؟ جی نہیں !اگر اُس شخص نے اپنے اُس برے عمل یا طریقے سے توبہ کرلی ،  اُس پر ندامت اختیار کی،  حتی المقدور اپنے اُس بُرے عمل کے خاتمے کی کوشش کی تو اب اُسے دیگر لوگوں کے عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ کسی گناہ پر نادم ہونا اُس گناہ سے توبہ ہے اور کسی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ،  لہذا اب جو لوگ اُس پر عمل کریں گے اُنہیں اپنے عمل کا گناہ ملے گا اِسے اُن کے عمل کا کوئی نقصان نہ ہوگااِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیْدَہ بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا:  ’’ اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ یعنی ندامت توبہ ہے۔ ‘‘  ([1])

گلوکار کیسے سُدھرا۔۔۔؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں سے توبہ کرنے،  اُن سے چھٹکارہ پانے کا ایک بہترین ذریعہ اچھی صحبت بھی ہے کہ صحبت اپنا اثر رکھتی ہے،  اچھی صحبت اچھا بنادیتی ہے اور بُری صحبت بُرا۔تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کامشکبار مدنی ماحول بھی اچھی صحبت فراہم کرتا ہے،  اس مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ،  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّاس مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر بے شمار ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی جو اپنی سابقہ زندگی نہ صرف گناہوں میں گزار رہے تھے بلکہ اُن کے گناہوں بھرے بُرے طریقوں پر عمل کرکے دیگر لوگ بھی اپنی آخرت کو تباہ وبرباد کررہے تھے۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے،  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاِس کی برکت سے پابندسنت بننے،  گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:

حیدرآباد دکن  (ہند)  کے 26 سالہ نوجوان کے تحریری بیان کا خلاصہ  ہے کہ میں گناہوں کی پُرخار وادیوں میں بھٹک رہا تھا،  عملی حالت بہت خراب تھیپڑوسیوں کو ستانا ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان سے جھگڑا کرنا،  کلب کے بے ہودہ ماحول میں وقت بر باد کرنا،  موڈلنگ کرنا،  داڑھی منڈوانا،  نت نئے فیشن اپنا نا اور گھر والوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا میری روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بن چکاتھا۔ انہی عاداتِ بد کی وجہ سے پڑوسی اور اہلِ محلہ اپنے بچوں کو میری صحبت تو صحبت میرے سائے سے بھی دور رکھتے اور مجھے نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے،  مگرمجھ پر ان کے اس برتاؤ کا کچھ اثر نہ ہوتا۔

ان تمام بری خصلتوں کے ساتھ ساتھ فنکاری اور گلوکاری کا بھوت ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا اور اپنے اس مقصد میں کامیابی کے ‏لیے تو میں رات دن



[1]   ابن ماجۃ،کتاب الزھد،باب ذکر توبہ،۴‏ / ۴۹۱، حدیث:  ۴۲۵۰، ۴‏ / ۴۹۲، حدیث: ۴۲۵۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن