30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُس دور میں یہی طریقہ رائج تھا اور جس کی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی اور اس کی قربانی کو کھاجاتی۔قابیل کاشت کارتھا اور ہابیل کے پاس بکریاں تھیں ۔قابیل نے سب سے ردی غلے کا ایک ڈھیرقربانی کے لیے پیش کیا اور اپنے دل میں سوچا کہ مجھے پرواہ نہیں میری طرف سے قبول ہو یا نہ ہو کیونکہ شرعاً تو ہابیل ہی میری بہن سے شادی کرے گا۔ہابیل نے ایک موٹا تازہ مینڈھا، دودھ اور مکھن قربانی کےلیے پیش کیا اور دل میں یہ سوچا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو فیصلہ فرمائے گا میں اس پر راضی ہوں ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آسمان سے سفید آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی، لہذا ہابیل سے قابیل کی بہن اقلیمہ کا نکاح ہوناطے پاگیا جو درحقیقت پہلے ہی طے تھا۔اِس سے قابیل کے دل میں ہابیل کی دشمنی پیدا ہوگئی یہاں تک کہ اس نے ہابیل کو قتل کر ڈالا۔حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ہابیل کا وہ مینڈھازندہ جنت میں اٹھا لیا گیا اور جنت ہی میں رہایہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی قربانی میں وہی مینڈھا فدیہ بنا۔ ([1])
ناحق قتل کرنےوالےقابیل کےپیروکارہیں :
علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سب سے پہلا قاتل قابیل ا ور سب سے پہلامقتول ہابیل ہے۔چونکہ قابیل وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا اب جو بھی اس کے بعد (ناحق) قتل کرے گا، وہ اس کی اقتداء کرنے والا ہوگا، اب چاہے وہ ایک واسطے سے قتل کرے یا کئی واسطوں سے۔ ‘‘ ([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ- (پ۲۲، فاطر: ۱۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
آیت مبارکہ کو پڑھنے کے بعد بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس آیت مبارکہ اور مذکورہ حدیث پاک میں تعارض ہے کہ ’’ آیت مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی جبکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ بُرا طریقہ ایجاد کرنے کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اس بُرا طریقہ ایجاد کرنے والے کو ملے گا۔ ‘‘ جبکہ حقیقتاً ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ کل بروزِ قیامت کسی کی دوسرے کے گناہوں کے عوض پکڑ نہ کی جائے گی البتہ وہ لوگ اس حکم سے خارج ہیں جن کے سبب دیگر لوگ گمراہ ہوئے کہ ان کی دیگر لوگوں کوگمراہ کرنے کے سبب پکڑ کی جائے گی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘- (پ۲۰، العنکبوت: ۱۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور بے شک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ۔
چنانچہ صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی پارہ ۲۲، سورہ فاطر، آیت نمبر۲۲ کے تحت ’’ خزائن العرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کیے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں اُن کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے اُن کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا: ( وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘- ) (پ۲۰، العنکبوت: ۱۳) اور درحقیقت یہ اُن کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع