30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُوْجِدِ قتل کو تمام جہان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، ایسے ہی جو ایک جان کو بچائے اور پھر لوگ اس کی دیکھا دیکھی جانیں بچانا شروع کردیں تو ان سب کی نیکیوں میں اس مُوْجِد کا بھی حصہ ہوگا لہٰذا ہر نیک و بدکام کے اِیجاد کا یہی حال ہے۔ ‘‘ ([1])
ناجائز کام میں مددکرنا بھی ناجائزہے:
نیکی پر مدد کرنے والا نیک کام کرنے والے کی مثل اور بُرائی پر مدد کرنے والا بُرے کام کرنے والے کی مثل ہے۔چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث پاک اِس قاعدے کی اَصل ہےکہ حرام کام میں مددکرنابھی حرام ہے۔کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: (وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ) ( پ۶، المائدۃ:۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اورگناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ ‘‘ اور یقیناًنیکی پر مددکرنے والانیکی کرنے والے کی مثل اور برائی پر مدد کرنے والا بُرائی کرنے والے کی مثل ہے۔ ‘‘ ([2])
حضرت سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کا پہلا بیٹا:
مذکورہ حدیث پاک میں ’’ اِبنِ آدم ‘‘ کے ساتھ لفظ ’’ اَوَّل ‘‘ آیا ہے جس سے بعض شارحین نے اس بات پر استدلال کیا ہے یہ قتل کرنے والا حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا سب سے پہلا بیٹا ہے، لیکن کئی شارحین ومفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس بات کی تردیدکی ہے اور فرمایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ پہلا بیٹا نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا یہ واقعہ کئی اولادوں کے بعد ہوا تھا البتہ حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ وہ سب سے پہلا بیٹا ہے جس نے پہلا قتل کیا۔ ([3])
(1) حضرت سَیِّدُنَا آدم عَلَیْہِ السَّلَامکے جس بیٹے نے سب سے پہلے قتل کیا اس کے نام میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے لیکن اکثر کے نزدیک درست یہی ہے کہ اس کا نام ’’ قابیل ‘‘ تھا۔ ([4])
(2) جس جگہ یہ قتل ہوا اس مقام میں بھی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے لیکن علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ہابیل کو ہندمیں جبل نوذ پر قتل کیاگیا ہےاور یہی قول درست ہے۔ ‘‘ ([5])
حضرت سَیِّدَتُنَا حوا ء عَلَیْہَا السَّلَامکے ہر حمل سے ایک بچہ اور ایک بچی پیدا ہوتی تھی سوائے حضرت سَیِّدُنَا شیث عَلَیْہِ السَّلَام کےکہ یہ تنہا پیدا ہوئے۔جب حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کودنیا میں تشریف لائے ہوئے سو100سال گزر چکے توقابیل اور اُس کی جڑواں بہن ’’ اقلیمہ ‘‘ پیدا ہوئے، اِن کے بعد ہابیل اور اُن کی جڑواں بہن ’’ لیوذا ‘‘ پیدا ہوئے۔بوجہ ضرورت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت میں یہ جائز تھا کہ ایک حمل کے لڑکے کادوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا جاتا۔البتہ یہ جائز نہیں تھا کہ ایک ہی حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا ایک ساتھ نکاح کیا جائے۔ جب یہ چاروں بالغ ہوگئے تو حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے چاہا کہ قابیل کا نکا ح لیوذا سے اور ہابیل کا نکاح اقلیمہ سے کردیں ۔قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی اس کی بہن اقلیمہ چونکہ بہت حسین وجمیل تھی، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اقلیمہ سے اس کا نکا ح کردیا جائے حالانکہ یہ اُن کی شریعت میں جائز نہ تھا۔جب وہ اِس بات پر بضد ہوا تو حضرت سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَامنے حکم دیا کہ دونوں اِس مسئلے کے حل کے لیے اپنی اپنی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کریں ، جس کی قربانی مقبول ہوگی اقلیمہ کا نکا ح اس کے ساتھ کردیا جائےگا۔
[1] نورالعرفان، پ۶، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۲۔
[2] اکمال المعلم،کتاب القسامۃ ، باب بیان اثم من سن القتل ،۵ / ۴۷۸، تحت الحدیث: ۱۶۷۷۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ،کتاب العلم ،الفصل الاول،۱ / ۴۶۷،تحت الحدیث: ۲۱۱ ملخصا۔
[4] فتح الباری، کتاب الدیات ، باب قول اللہ تعالی: ومن احیاھا، ۱۳ / ۱۶۴، تحت الحدیث: ۶۸۶۷۔
[5] عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب خلق آدم صلوات اللہ ۔۔۔الخ،۱۱ / ۱۸، تحت الحدیث: ۳۳۳۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع