30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصحاب کو دیکھ کر انتہائی غمزدہ ہوگئےحتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ اَنور کا رنگ متغیر ہوگیا، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہاں موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کواُن کی مددکرنے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی، جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اُن کی مدد کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش ہو گئے۔ اِس سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دوعظیم سنتوں کا پتا چلا: (1) ایک تویہ کہ غریبوں کی مدد کرنا، اُن کا اِحساس کرنا، اُن کے غم میں شریک ہونا، اُن کے دکھ کو محسوس کرنا، جن کے پاس کھانے اور پہننے کو نہیں ہے اُن کی اِس حالت کا اپنے دل میں اِحساس کرناآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔ (2) دوسرا یہ کہ غریبوں کی مدد کرنا اور اُس مدد پر خوش ہونایہ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا چہرۂ انور متغیر ہونے کی وجہ:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قبیلہ مُضَر کے اُن تمام لوگوں کو شدید حاجت مند دیکھ کراور اغنیا ءمسلمانوں کا اُن کی مدد کرکے اُن سے ضرر کو دُور نہ کرنے کی وجہ سےچہرۂ اَنور متغیر ہوا کیونکہ شریعت نےخوش حال مسلمانوں پر محتاج مسلمان سےضررکودُورکرنااِس طور پرواجب کیا ہےکہ وہ اس بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائیں ، بے لباس کو کپڑے پہنائیں ۔چونکہ قبیلہ مُضَر کے اُن مسلمانوں کی بھی یہی حالت تھی اور اَغنیاء مسلمان اُن کی حاجت روائی کی طرف متوجہ نہ ہورہے تھے پس اِسی سبب سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ اَنورمتغیر ہوگیا نہ کہ اُن کے فاقہ کودیکھ کرکیونکہ فاقہ کرنا تو اِس اُمَّت کے صالحین کی شان ہے۔ ‘‘ ([1])
نیک مقاصد کے لیےلوگوں کوجمع کرنامستحب ہے:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کونیک مہم کے لیے جمع کرنا ، اُن کو وعظ کرنا، اچھی مصلحتوں پر اُبھارنااوراُن کو بُری باتوں سے ڈرانا مستحب ہے۔اس موقع پریہ آیت تلاوت کرنے کا سبب یہ تھاکہ یہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کوصدقہ پراُبھارنے کے لیے زیادہ فائدے مند تھی کیونکہ اس آیت میں مسلمانوں کے حق کو اس طور پر مؤکدکیا گیاہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ‘‘ ([2]) (اور ایک بھائی کا دوسرے بھائی پر حق ہوتاہے کہ وہ استطاعت کی صورت میں اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے۔)
مسجد میں چندہ کرنے کی شرعی حیثیت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں البتہ مساجد ومدارسِ اسلامیہ وغیرہ دینی کاموں کے لیے چندہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہے اور اُس کی اَصل سُنَّت سے ثابت ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ ج۱۶، ص۴۱۸پر ارشاد فرماتے ہیں : ’’ مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ اور کسی دوسرے کے لیے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کے لیے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔ ‘‘ فتاویٰ رضویہ ج۲۳، ص۱۲۷پر ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اُمورِ خیر کے لیے مسلمانوں سے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ جو لوگ اِس سے روکتے ہیں (وہ اِس آیت) : (مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ (۱۲) ) (پ۲۹، القلم:۱۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ بھلائی سے بڑا روکنے والا حدسے بڑھنے والا گنہگار ‘‘ میں داخل ہوتے ہیں ۔ ‘‘ پھر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی مذکورہ بالا حدیث پاک بیان فرمائی۔ پیارے اسلامی بھائیو! مسجدوں ، مدرسوں ، اور مذہبی وسماجی اداروں کے چندہ کنندگان کے لیے چندے کے مسائل جاننا فرض ہے، چندے کے تفصیلی مسائل اور اس کی مختلف احتیاطوں کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’ چندے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع