رسول اللہ کی دو عظیم سُنَّتِیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

وَصَحَّفَہُ بَعْضُہُمْ فَقَالَ:  ’’ مُدْہُنَۃٌ ‘‘  بِدَالٍ مُہْمَلَۃٍ وَضَمِ الْہَاءِ وَبِالنُّوْنِ،  وَکَذَا ضَبَطَہُ الْحُمَیْدِیُّ،  وَالصَّحِیْحُ الْمَشْہُوْرُ ہُوَ الْاَوَّلُ. وَالْمُرَادُ  بِہِ  عَلَی الْوَجْہَیْنِ: الصَّفَاءُ وَالْاِسْتِنَارَۃُ.

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابو عَمرو جریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی وقت میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ بے لباس لوگ آئے جنہوں نے اُون کی دھاری دار چادریں یا ٹاٹ کی چادریں پہنی ہوئی تھیں اوران کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ،  ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مُضَر سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کو اِس فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ اَنور متغیر ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اندر تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے اور حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اذان کا حکم دیا ،  سَیِّدُنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی اور اقامت کہی اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

 (یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ  خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا  وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا  رِجَالًا  كَثِیْرًا  وَّ  نِسَآءًۚ-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ  وَ  الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  عَلَیْكُمْ  رَقِیْبًا (۱) )  (پ۴،  النساء:۱)

 ترجمہ ٔ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت پھیلادیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔

پھریہ دوسری آیت پڑھی جو سورۂ حشر کے آخرمیں ہے:

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-)  (پ۲۸،  الحشر:۱۸)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے ایمان والواللہ سے  ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیےکیا آگے بھیجا۔

پھر ارشاد فرمایا:  ’’ لوگ اپنے دینار،  درہم،  کپڑوں ،  ایک صاع گندم،  ایک صاع کھجوروں میں سے کچھ نہ کچھ صدقہ کریں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ جنت نشان کو سننے کے بعد ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے ان کاہاتھ تھکنے والا تھا بلکہ تھک ہی چکا تھا۔اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنے صدقات بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے لگےیہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور میں نےدیکھا کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انورخوشی سےکُنْدَن  (یعنی خالص سونے)  کی طرح چمک رہا تھا۔پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اسلام میں کوئی نیک اور اچھاطریقہ ایجاد کیا تواُسے اُس کا اَجر ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اوراُن عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اس کاگناہ ملے گا اور  بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ملے گااور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ ‘‘

مختلف الفاظ کے معانی: * ’’ مُجْتَابِی النِّمَارِ ‘‘ : ’’ نِمَار ‘‘ نَمِرَۃٌ کی جمع ہےجس کا معنی ہے: ’’ اُون کی دھاری دار چادر۔ ‘‘  * ’’ مُجْتَابِیْھَا ‘‘  کا مطلب ہے کہ  ’’ انہوں نے چادروں میں سوراخ کرکےاپنے سروں پر ڈالی ہوئی تھیں ۔ ‘‘  * ’’ اَلْجَوْبُ ‘‘  کامعنی ہے: ’’ کاٹنا۔ ‘‘ جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافرمان ہے (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ (۹)  ) پ۳۰،  الفجر: ۹)  ترجمہ ٔ کنزالایمان:  ’’ اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں ۔ ‘‘  * ’’ تَمَعَّرَ ‘‘  کا معنی ہے: ’’ رنگ بدل گیا۔ ‘‘  * ’’ رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ ‘‘ میں  ’’ کوْمَیْنِ ‘‘  کو  ’’ کَوْمَیْنِ ‘‘  کاف پرزبر اور  ’’ کُوْمَیْنِ ‘‘  کاف پر پیش کے ساتھ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں ۔اس کا معنی ہے:  ’’ دو ڈھیر۔ ‘‘  * ’’ کَاَ نَّہُ مُذْھَبَۃٌ ‘‘ کو بعض نے  ’’ مُدْھُنَۃٌ ‘‘ بھی ذکر کیا ہے لیکن صحیح اور مشہور پہلے والا ہے البتہ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے یعنی:  ’’ چہرۂ اَنور کا روشن ہو نا ۔ ‘‘

رسول اللہ کی دو عظیم سُنَّتِیں :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا حدیث پاک کے ابتدائی نصف حصے کا مضمون یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ مُضَرکے فقروفاقہ والے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن