30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کے طور پر کہ جناب میں بڑا لیڈر ہوں ، میں بڑا پیشوا ہوں ، میں بڑا مذہبی قائد ہوں ، میرے پیچھے اتنے لوگ ہیں ، میرے ماننے والے اتنے ہیں ، میرے چاہنے والے اتنے ہیں ، میرے ساتھ محبت کرنے والے اتنے ہیں ، اگر یہ پیشوائی اپنی ذاتی عزت اور شہرت چاہنے کے طور پر ہے تو یہ مذموم یعنی قابل مذمت ، بُری اور ممنوع ہے۔تفسیر خازن میں ہےکہ بعض مفسرین نے فرمایا: ’’ اس آیت مبارکہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین میں (بغیر حُبِّ جاہ وطلب شہرت کےاس لیے) امامت وپیشوائی طلب کرنا (کہ لوگ نیک کاموں میں اِس کی اِتباع کریں یہ) مطلوب اور مرغوب ہے۔ ‘‘ ([1])
(2) ربّ تعالی کےحکم سےلوگوں کو دین کی طرف بلانے والے
ارشادباری تعالی ہے:
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا (پ۱۷، الانبیاء: ۷۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں ۔
اِس آیت مبارکہ میں بھی اِس بات کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے نیک پرہیزگار متقی مسلمانوں کو دیگر مسلمانوں کا امام وپیشوا بنایا تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلائیں ، نیک کاموں میں لوگ ان کی پیروی کریں ، نیک اور اچھے طریقوں میں ان کی اتباع کریں ، برے کاموں سے بچیں ، الغرض اَحکامات اِلٰہیہ میں اُن کی اِتباع واِقتداء کریں ۔ تفسیر طبری میں ہے: ’’ یعنی خیر کے کاموں میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی اِطاعت و فرمانبرداری اور اُس کے اَوامر و نواہی میں (یعنی جن کاموں کے کرنے یا نہ کرنے کا ربّ عَزَّوَجَلَّنے حکم ارشاد فرمایا ہے اُن کاموں میں ) اُن کی پیروی اور اِتباع کی جائے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُنہیں امام بنایا تاکہ اُس کے اَحکامات میں اُن اِماموں وپیشوا حضرات کی اِقتداء کی جائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے لوگ اُن کے ذریعے ہدایت پاتے ہیں اور وہ لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:171
نیک یا بُرےعمل اِیجاد کرنے کی جَزاءیاسزا
عَنْ اَبِي عَمْرٍو جَرِ یْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ اَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا رَاَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: ( یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) اِلَى آخِرِ الْآيَةِ: (اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا (۱) ) (پ۴، النساء:۱) وَالْآيَةُ الاُخْرَی الَّتِي فِي آخِرِالْحَشْرِ: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸، الحشر:۱۸) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ:وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‘‘ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَاَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَاَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَهَلَّلُ كَاَ نَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ. ([3])
قَوْلُہُ ’’ مُجْتَابِی النِّمَارِ ‘‘ ہُوَ بِالْجِیْمِ وَبَعْدَ الْاَلِفِ بَاءٌمُوَحَّدَۃٌ.وَالنِّمَارُ:جَمْعُ نَمِرَ ۃٍ، وَہِیَ:کِسَاءٌمِنْ صُوْفٍ مُخَطَّطٌ، وَمَعْنَی ’’ مُجْتَابِیْہَا ‘‘ اَیْ لَا بِسِیْہَا قَدْ خَرَقُوْہَا فیِ رُؤُسِہِمْ. ’’ وَالْجَوْبُ ‘‘ الْقَطْعُ، وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالیٰ: (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ (۹) ) (پ۳۰، الفجر:۹) اَیْ:نَحَتُوْہُ وَقَطَعُوْہُ.وَقَوْلُہُ ’’ تَمَعَّرَ ‘‘ ہُوَ بِالْعَیْنِ الْمُہْمَلَۃِ، اَیْ: تَغَیَّرَ. وَقَوْلُہُ: ’’ رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ ‘‘ بِفَتْحِ الْکَافِ وَضَمِّہَا اَیْ:صُبْرَ تَیْنِ.وَقَوْلُہُ: ’’ کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ ‘‘ ہُوَ بِالذَّالِ الْمُعْجَمَۃِ، وَفَتْحِ الْہَاءِ وَالْبَاءِ الْمُوَحَّدَۃِ. قَالَہُ الْقَاضِی عِیَاضٌ وَغَیْرُہُ.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع