30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب نمبر : 19
اَچھے یا بُرے کا م کی بُنْیَاد ڈالنے کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شریعت کی اِتباع کرنا نہ صرف قابل تعریف امربلکہ باعث اجر وثواب ہے، قرآن وسنت میں وہ تمام اُصولِ شرعِیَّہ بیان کردیے گئے ہیں جن کی روشنی میں علمائے اُمَّت قیامت تک پیش آنے والے تمام جدید مسائل کا حل نکالتے رہیں گے۔اب اُصُولِ شَرْعِیَّہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی البتہ تَغَیُّرِ زَمَانہ کے اعتبار سے مختلف مسائل پیش آتے رہیں گے۔ ان مسائل کے حل کے لیے جوبھی نیا طریقہ اِیجاد اور رائج کیا جائے گا اگر وہ قرآن وسنت واُصولِ شَرْعِیَّہ کے موافق ہے تو ایسے طریقے کو ایجاد کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ باعث ثواب ہے، ایسے طریقے کو بدعت حسنہ کہا جاتا ہے۔ اور اگر وہ طریقہ قرآن وسنت واُصولِ شرعِیَّہ کے مخالف ہے تو ایسے طریقے کو ایجاد کرنا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ آخرت میں اس پر سخت پکڑ ہے، ایسے طریقے کو بدعت سیئہ کہا جاتا ہے۔جس طرح اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرنے والے کو نہ صرف اس اچھے طریقے کو ایجاد کرنے کا ثواب دیاجاتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے والوں کا بھی ثواب دیا جاتا ہے ویسے ہی اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرنے والے کو نہ صرف اُس بُرے طریقے کو ایجاد کرنے کا گناہ ملتا ہے بلکہ جو جو لوگ اُس بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے اُن کا بھی اس کو گناہ ملتا رہے گا۔ ریاض الصّالحین کا یہ باب ’’ اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنے ‘‘ کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 2آیاتِ کریمہ اور 2اَحادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔پہلےآیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1) ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتاہے:
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (۷۴) (پ۱۹، الفرقان:۷۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے ربّ ہمیں دے ہماری بیبیوں اورہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس آیت مبارکہ میں کامل مؤمنین اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خاص بندوں کی دعا بیان کی گئی ہےکہ وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنادے، ان کا بڑا بنادے، ان کا لیڈر بنادے۔ ‘‘ یہ بڑا بننا کیوں ہے؟ اس لیے ہے تاکہ ہم جو نیک کام کریں یا دین میں کوئی نیک اور اچھا طریقہ ایجاد کریں ہمیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی وہی نیک کام کریں اور اس اچھے طریقے کی اتباع کریں ، عمل کا جذبہ حاصل کریں اور ان کےنقش قدم پرچل کر وہ بھی نیکیوں والے کاموں میں لگ جائیں ۔ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ یعنی اے ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّہمیں ایسا امام اور پیشوا بنادے کہ لوگ ہماری (نیک اور اچھے اعمال میں ) اقتداء کریں ۔ ‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ یعنی ہمیں تقویٰ اور اہل تقویٰ یعنی متقی لوگوں کا پیشوا بنادے کہ وہ ہماری اقتداء کریں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ یعنی ہمیں ویسا امام اور پیشوا بنادے جیسا کہ ہم سے قبل لوگوں کو بنایا تھا کہ ہم نے ان کی اِقتداء کی اور ہمارے بعد آنے والے ہماری اقتداء کریں ۔ ‘‘ ([1])
اِمامَت وپیشوائی کی طلب سے متعلق اہم وضاحت:
اگر امامت وپیشوائی طلب کرنا اس لیے ہے کہ میں نیکوں پرہیزگاروں کے لیے ایک مثال بنوں ، آئیڈیل بنوں ، ان کو صحیح نصیحت کرسکوں ، صحیح بات بتا سکوں ، تو یہ پیشوائی شریعت میں مطلوب ومحمود اور اس کی دعا کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ پاک میں خود ذکر فرمایا ہے۔البتہ اگرامامت وپیشوائی کی ایسی طلب ہے جس کے اندر حُبِّ جاہ اور طلبِ شُہرت ہے تو یہ مذموم ہے۔یعنی نیکوں وپرہیزگاروں کا پیشوا بننا تو ہے لیکن اپنی ذات کی اَنانیت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو بڑا شمار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع