30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورعَلَیْہِ السَّلَام حاضر وناظر ہیں :
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) (پ۲۱، الاحزاب: ۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ ‘‘ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں ۔ معلوم ہوا کہ حضور ہر مؤمن کے دل میں حاضر وناظر ہیں کہ جان سے زیادہ قریب ہیں ۔ ربّ فرماتاہے: ( لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ) الآیۃ (پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۸) یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کا حکم ہرمؤمن پربادشاہ، ماں باپ سے زیادہ نافذ ہے کہ حضور ہمارے سب سے زیادہ مالک ہیں ۔ یا یہ معنی ہیں کہ حضور تم کو تمہاری جانوں سے زیادہ راحت پہنچانے والے ہیں دنیا و آخرت میں ۔ ‘‘ ([1])
آقاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکااپنی اُمَّت پراحسان:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں اس فرمان: ’’ جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ: ’’ یہ الفاظ حضورعَلَیْہِ السَّلَام کے اس فرمان ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔ ‘‘ کی تفسیر ہیں ، ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جس شخص کا قرض ادا کیے بغیر وصال ہوجاتا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے تاکہ لوگ قرض ادا کرنے میں سستی نہ کریں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایسے لوگوں کی نماز جنازہ کو ترک کرنے کا مقصد دوسرے لوگوں کو اس سے روکنا تھا، پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پر فتوحات کا دروازہ کھول دیا تو حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا جو قرض چھوڑ کر وفات پاگیا تواس کا قرض مجھ پر ہے (یعنی میں اس کی طرف سےادا کروں گا) پھر حضور عَلَیْہِ السَّلَام اس کی طرف سے قرض ادا فرماتے تھے۔اس بارے میں ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے کہ حضور پر یہ قرض ادا کرنا واجب تھا یا پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے کرم سے اسے ادا فرماتےتھے؟ زیادہ درست بات یہ ہےکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر واجب تھا، پھر ہمارے اصحاب کے مابین اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ حضور کے خصائص میں سے ہے یا نہیں ؟ بعض نے کہا کہ یہ حضور کے خصائص میں سے ہے اور یہ کسی خلیفہ پر لازم نہیں کہ وہ بیت المال سے اس شخص کا قرض ادا کرے جو قرضہ ادا کیے بغیر وفات پا گیا ہو۔ ‘‘ ([2])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : ’’ خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اپنے قلب شریف پر ہوتا تھاجس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں ۔ تبلیغ وہی مؤثر (اثرانداز) ہوتی ہے جس کا اثر مُبَلِّغ (تبلیغ کرنے والے) کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلالِ الٰہی اور عظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہر ہونا ہے نہ کہ کسی پر ناراض ہونا۔ لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت (عَلَیْہِ السَّلَام) کا لشکر ہے یعنی موت قریب ہے، تیاری کرو، صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔ ‘‘ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں کے تحت فرماتے ہیں : ’’ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرےاورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرادین تاقیامت ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت حصہ گزر چکاہے تھوڑا باقی ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے، میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سے خبردار ہوں ۔ ‘‘ ([3])
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع