30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گمراہی ہے کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے اسلام میں اچھا کام ایجاد کیا اس کے لیے اس کا اَجر ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجرہے۔حضرتِ سَیِّدُناابوبکرصدیق وسَیِّدُنَاعمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے قرآن کو جمع کیا، حضرت سَیِّدُنَا زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو مُصْحف میں لکھااور حضرتِ سَیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دور میں اُس پر دوبارہ کام ہوا۔ ‘‘ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ بدعت ہر اس کا م کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلےنہ ہو اور شرع میں ہر اس نئے کا م کو بدعت کہتے ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دور میں نہ ہو۔لہٰذا كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ہر بدعت گمراہی ہے۔یہ فرمان عام مخصوص ہے۔ ‘‘ ([1]) (یعنی اِس سے ہر بُری بدعت مراد ہے۔)
بدعتی کی مذمت پرتین احادیث مبارکہ:
(1) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔ ‘‘ ([2]) (2) سرکار مکہ مکرمہ، سردار مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر بدعتی کی توبہ کو روک لیتا ہے۔ ‘‘ ([3]) (3) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ تو کسی بدعتی کا روزہ، صدقہ، حج، عمرہ اور جہاد قبول کرتاہے اور نہ اس کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول فرماتاہے، بدعتی اِسلام سے اِس طرح نکل جاتاہے جیسے آٹے سے بال نکلتاہے۔ ‘‘ ([4])
بدعتی کی مذمت پر تین اقوالِ بزرگانِ دین:
(1) حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جو بدعتی کو دوست رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے اَعمال کو بربادکردیتا ہے اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکل جاتاہے، جو شخص بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہو اس سے بھی بچنا لازم ہے ۔ ‘‘ انہی سے روایت ہے کہ ’’ اگر کسی راستے میں بدعتی آتاہو تو دوسرا راستہ اختیار کرو۔ ‘‘ (2) حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص بدعتی سے ملنے گیا اس کے دل سے نور ایمان جاتارہا۔ ‘‘ (3) حضرت سَیِّدُنَاسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ جس نے بدعتی کی بات سنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو اس بات سے فائدہ نہیں دیتا اور جو بدعتی سے مصافحہ کرتا ہے وہ اسلام کا زور توڑ دیتا ہے۔ ‘‘ ([5])
حضورعَلَیْہِ السَّلَام مؤمنین کی جانوں کے زیادہ حق دار ہیں :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس فرمان: ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ فرمان اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس ارشاد کے موافق ہے: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ) (پ۲۱، الاحزاب:۶) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ ‘‘ یعنی ان سے زیادہ حق دار ہے۔ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے یاکسی اور چیز کی حاجت درپیش ہو تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب پریہ واجب تھا کہ اس شے کو آپ کی بارگاہ میں حاضرکردیں اورحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے یہ بھی جائز تھا کہ آپ مالک کی اجازت کے بغیر وہ چیز لے لیں مگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ مبارکہ میں کبھی بھی ایسانہ ہوا۔ ‘‘ ([6])
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱ / ۳۶۸، تحت الحدیث: ۱۴۱۔
[2] کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب البدع و الرفض من الاکمال،۱ / ۱۲۳،حدیث: ۱۱۲۱۔
[3] المعجم الاوسط،من اسمہ علی، ۳ / ۱۶۵،حدیث: ۴۲۰۲۔
[4] ابن ماجۃ،کتاب السنۃ، باب اجتناب البدع والجدل،۱ / ۳۸،حدیث: ۴۹۔
[5] اخلاق الصالحین،ص۳۶ بتقدم وتاخر۔
[6] دلیل الفالحین، باب فی النھی عن البدع ومحدثات الامور، ۱ / ۴۴۲، تحت الحدیث: ۱۷۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع