30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلافِ اسلام عقائد باطل ومردودہیں :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ وہ ایجاد کرنے والا مردود ہے یا اس کی یہ ایجاد مردود ہے؟ خیال رہے کہ اَمر سے مراد دین اسلام ہے اور مَاسے مراد عقائد، یعنی جوشخص اسلام میں خلافِ اسلام عقیدے ایجاد کرے وہ شخص بھی مردود اور وہ عقائد بھی باطل۔ لہٰذا روافض، قادیانی، وہابی وغیرہ بہتر72 فرقے جن کے عقائد خلافِ اسلام ہیں باطل ہیں ۔یا اَمر سے مراد دین ہے اور مَا سے مراد اعمال ہیں اور لَیْسَ مِنہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جودین یعنی کتاب و سنت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا، فارسی میں اَذان دینا وغیرہ۔جو کوئی بدعت ایجاد کرے تو اللہ سنت کو اٹھالیتا ہے۔ہماری اس تفسیر کی بنا پر یہ حدیث اپنے عموم پر ہے اس میں کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں ۔مرقاۃ نے فرمایا: لَیْسَ مِنہُ سے معلوم ہوا کہ دین میں ایسے کام کی ایجاد جو کتاب و سنّت کے خلاف نہ ہو بُری نہیں ۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
’’ صحابۂ کرام ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) وہ عقائد یا وہ اعمال جو کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئےہوں انہیں بدعت کہا جاتا ہے۔
(2) بدعت کی پانچ قسمیں ہیں اور ہر قسم کا حکم علیحدہ ہے۔ لہذا اِن اقسام سے صرف نظر کرکے تمام اچھے اَعمال کو بھی بُری بدعت شمار کرنا جہالت ونادانی ہے۔
(3) ہر نیا کام بدعت ہوسکتا ہے مگر ہر وہ بدعت مذموم اور قابل گرفت ہے جس میں قرآن وسنت کا خلاف ہو، یا جس کی اصل قرآن وسنت میں نہ ہو یاجس سے کسی فرض، واجب یا سنت وغیرہ کا ترک لازم آتا ہو۔
(4) بدعت کا تعلق عقائد اور اَعمال دونوں کے ساتھ ہے، عقائد میں بدعت اَعمال میں بدعت سے زیادہ سخت ہے لہذا تمام بُرے عقائد اور بُرے اعمال والے گمراہ فرقوں سے بچنا چاہیے۔ جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں بھی اچھا ہے اور اُمَّت مسلمہ کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، نیز ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
(5) بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے اَعراس ، فاتحہ خوانی ، محافل و اِجتماعات کا انعقاد قابل تحسین امر ہےکہ اس میں سراسر دینی منفعت ہے نیز یہ اَدِلَّۂ شرعِیَّہ سے مُتَصَادِم بھی نہیں کہ جس بنا پر انہیں مذموم امر قرار دیاجائے۔
(6) جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا ثواب ملتارہے گابلکہ ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ طریقے پر چلتے رہیں گے۔
(7) جس نے اسلام میں کسی بُرے طریقے کی بنیاد رکھی جب تك وه كام باقی رہے گا اُسے اُس کا گناہ ملتارہے گابلکہ اُن تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے۔
جس کام کا حکم قرآن وسنت میں ہو، یا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانودیگر بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے ثابت ہو اس کا کرنا بالکل جائز ہے البتہ جو کام اُن سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع