30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اُسے اُس کا ثواب ملے گا اور اُس کا ثواب بھی جو اُس اچھے طریقے پر عمل کرے گا اور اس عمل کرنے والے کا اپنا ثواب بھی کم نہ ہوگا اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ اِیجاد کیا اُسے اُس کا گناہ ملے گا اور اُس کا گناہ بھی جو اُس بُرے طریقے پر عمل کرے گا اور اُس کا اپنا گناہ بھی کم نہ ہوگا۔ ‘‘ ([1])
علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ یہ احادیث اسلام کے قواعد ہیں کہ جو شخص اسلام میں کوئی بُری بدعت اِیجاد کرے گا اُس پر اُس بُری بدعت کی پیروی کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور جو شخص اچھی بدعت اِیجاد کرے گا اُس کو قیامت تک کے سارے پیروی کرنے والوں کا ثواب ملے گا۔ ‘‘ ([2])
اس باب کی حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘ حضرت علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ دین اسلام میں ایسی نئی چیز پیدا کرنا جس کی اصل دین میں موجود نہ ہو، نہ قرآن میں اور نہ ہی حدیث میں ایسی چیز باطل اور ناقابل قبول ہے۔اس حدیث پاک میں بدعات (سیئہ) کا رد ہے کیونکہ اُن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘‘ ([3])
کیامیلادو فاتحہ خوانی بدعت ہیں ؟
فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ میلاد فاتحہ عرس وغیرہ کے مانعین ان چیزوں کے حرام و بدعت سیئہ ہونے پر اس حدیث سے بھی دلیل لاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی خطائے فاحِشَہ (یعنی بہت بڑی غلطی) ہے اس لیے کہ ’’ مَالَیْسَ مِنْہُ ‘‘ سے مرادوہ نَو اِیجاد (نئی پیدا ہونے والی) چیزیں ہیں جو قرآن، حدیث، اجماع کے مخالف ہیں یا اس کی کتاب و سنت سے کوئی اصل ظاہر یا خفی ملفوظ یا مُسْتَنْبَط نہ ہو۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمرقاۃ میں لکھتے ہیں : ’’ یعنی کتاب اللہ یا سنت یا اثر یا اجماع کے مخالف جو چیز ایجاد کی جائے تو وہ گمراہی ہے اور جو چیز اِن میں سے کسی کے مخالف نہیں اس کا ایجاد کرنا مذموم نہیں ۔نیز اسی میں ہے ’’ اس کے معنی یہ ہیں جس نے اسلام میں ایسی رائے ایجاد کی جس کی کتاب و سنت سے کوئی ظاہر یا خفی ملفوظ یا مستنبط سند نہ ہو وہ اُس پر رد کر دی جائےگی۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اچھی چیز کا ایجاد کرنا بھی باعث ثواب ہے اور اس پر عمل کرنا بھی۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ارشاد گزرا کہ حسنہ اور سیئہ محمود و مذموم کی بنیاد یہ ہے کہ جو چیزیں کتاب اللہ یا سنت رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا اثر یا اجماع کے مخالف ہوں وہ مذموم ہیں سیئہ ہیں اور جو ان میں سے کسی کے مخالف نہیں وہ مذموم نہیں ۔اس لیے جو لوگ میلاد فاتحہ عرس کو بدعت سیئہ اور حرام کہتے ہیں یہ ان کے ذمہ ہے کہ بتائیں یہ چیزیں کس آیت یا کس حدیث یا کس اثر یا اجماع کے مخالف ہیں اور اگر یہ نہیں ثابت کرسکتے اور ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر گز ہرگز نہیں ثابت کر سکتے تو اُن کا اِن چیزوں کو حرام اور بدعت سیئہ کہنا شریعت پر افترا اور اپنے جی سے نئی شریعت گڑھنا ہے۔ ‘‘ ([4])
کیاصحابۂ کرام کے نہ کرنے سےکوئی فعل ناجائزہوجاتاہے؟
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا کسی کام کو کرنااس کام کے جائز ہونے کی دلیل تو ضرورہے مگر نہ کرنا اس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ، اسی لیے صحابہ نے جو کا م نہیں کیے ایسے بے شمار کام مسلمان روزانہ کرتے رہتے ہیں اور اُن کو جائز بھی سمجھتے ہیں ۔چنانچہ شارحِ بخاری حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاور حضرت علامہ محمد بن ابو بکر قسطلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اَلْفِعْلُ یَدُلُّ عَلَی الْجَوَازِ وَ عَدَمُ الْفِعْلِ لَایَدُلُّ عَلَی الْمَنْع یعنی کرنے سے جائز ہونا سمجھا جاتاہےاور نہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی۔ ‘‘ ([5])
[1] مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ ۔۔۔الخ،ص۵۰۸، حدیث: ۱۰۱۷۔
[2] رد المحتار، مقدمۃ،۱ / ۱۴۰۔
[3] عمدۃ القاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور، ۹ / ۵۸۵، تحت الحدیث: ۲۶۹۷۔
[4] نزہۃ القاری،۳ / ۸۵۰۔
[5] فتح الباری، کتاب الطب، باب من اکتوی۔۔۔الخ،۱۰ / ۱۳۲، تحت الحدیث: ۵۷۰۵۔
ارشاد الساری، کتاب الطب، باب من اکتوی ۔۔۔ الخ،۱۰ / ۴۹۹، تحت الحدیث: ۵۷۰۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع