30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطہرہ کو محفوظ بنانا فرض کفایہ ہے۔ (اسی طرح دیگر ان تمام مذاہب کا رد جن میں ایسے نئےباطل عقائد پائے جاتے ہیں جو قرآن وسنت کے خلاف ہیں ۔)
*یا بدعت مستحب ہوتی ہے جیسے مسافر خانے اور مدرسے وغیرہ بنانااور ہر وہ اچھی بات جو قرنِ اُولیٰ میں نہ تھی جیسے باجماعت نماز تراویح ادا کرنا وغیرہ۔
*یا بدعت مکروہ ہوتی ہے جیسے مسجدوں یا مَصَاحِفْ کو فقط فخریہ زینت دینا۔
*یا بدعت جائز ہوتی ہے جیسے نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنا اور عُمدہ عُمدہ کھانے اور طرح طرح کے مشروب پیناوغیرہ۔ ‘‘ ([1])
بدعت کی قسموں کی پہچان اور علامتیں :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے بدعت کی قسموں کی پہچان اور اُن کی علامتوں کو تفصیلاً بیان کیا ہے، کچھ اختصار وتصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :
*……جو بدعت اسلام کے خلاف ہو یا کسی سنت کو مٹانے والی ہو وہ بدعت سیئہ اور جو ایسی نہ ہو وہ بدعت حسنہ ہے۔ ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے بدعت جائز کہلاتا ہے۔ جیسے مختلف اَقسام کے کھانے کھانا، طرح طرح کے مشروب پینا وغیرہ۔
*……وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اُس کو عام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یا کوئی شخص اس کو اچھی نیت سے کرے بدعت مُسْتَحَبَّہ کہلاتا ہے۔جیسے محفل میلاد شریف، بزرگانِ دین کی فاتحہ دلانا کہ عام مسلمان اس کو کارِ ثواب جانتے ہیں لہذا اُن کو کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جس کا م کو مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بھی اچھا ہے ۔ اور حدیث مرفوع میں ہے کہ میری اُمَّت گمراہی پر متفق نہ ہوگی اور اَعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور اِنسان کے لیے وہی ہے جو نیت کرے۔چھ کلمے، اُن کی تعداد، اُن کی ترکیب اُن کے نام، قرآن مجید کے تیس پارے بنانا، اُن میں رکوع قائم کرنا، اِعراب لگانا، اُس کی جلدیں بنانا، اس کو چھاپنا، حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا، اَحادیث کی اسناد بیان کرنا، اسناد پر جرح کرنا، حدیث کی مختلف قسمیں صحیح، حسن، ضعیف، مرفوع، موقوف وغیرہ بنانا، اُن کے اَحکام مقرر کرنا، اُصولِ حدیث مرتب کرنا، اُصولِ فقہ مرتب کرنا، علم کلام مُدَوَّن کرنا، روزہ اِفطار کرتے وقت زبان سے دعا کرنا، موجودہ روپوں میں زکوۃ اَدا کرنا وغیرہ یہ تمام بدعاتِ مستحبہ ہیں کہ ان کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ۔
*……وہ نیا کام جو شرعاً منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہوبدعت واجبہ کہلاتا ہے جیسے کہ قرآن پاک کے اِعراب لگانا، اور دینی مدارس، علم نحو وغیرہ حاصل کرنا۔
*……وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے، بدعت مکروہہ کہلاتی ہے، اگر سنت مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تحریمی ہے اور سنت غیر مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے۔ جیسے جمعہ وعیدین کا خطبہ غیر عربی میں پڑھنابدعت مکروہہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں خطبہ پڑھنے کی سنت چھوٹتی ہے۔
*……وہ نیا کام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے یعنی وہ بدعت واجب کو مٹانے والی ہوبدعت محرمہ کہلاتی ہے۔ جیسے آج کل کے ایسے جدید لباس جن سے ستر عورت ظاہرہوتا ہے۔ ([2])
اِسلام میں اچھا اور بُرا طریقہ اِیجاد کرنا:
حضرت سَیِّدُنَاجریر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےا رشاد فرمایا: ’’ جس نے اسلام میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع