30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے تو تمہارا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا اور انہیں ربّ ماننا گمراہی اور حق سے انحراف ہے۔ ‘‘ ([1])
(2) کتاب میں ہرچیز کاعلم موجود ہے
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ (پ۷، الانعام :۳۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔
عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ یعنی لوحِ محفوظ میں کیونکہ لوح محفوظ تمام مخلوق کے احوال پرمشتمل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کتاب اللہسے مراد قرآن مجید ہے یعنی قرآن مجیدتمام (مخلوقات کے) اَحوال پر مشتمل ہے۔ ‘‘ ([2])
حَافِظ عِمَادُالدِّیْن اِبنِ کَثِیْر دمِشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان تمام کا علم ہےاوروہ ان میں سے کسی ایک کے رزق اور نصیب کوبھی نہیں بھولتاچاہے وہ خشکی میں ہوں یا سمندر میں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (۶) ( پ۱۲، ھود:۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہواور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔ ([3])
(3) ہرمسئلے کاحل بارگاہِ رسالت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ (پ ۵، النساء: ۵۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اُٹھے تو اُسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو۔
عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی دین کے کسی معاملےمیں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائےتو جس مسئلے میں تمہیں اختلاف ہو اسے کتاب اللہاور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف لے جاؤ جب تک رسول اس دنیا میں جلوہ گر ہیں اورآپ کے وصالِ ظاہری کے بعدحدیث کی طرف رجوع کروتواس زمانہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کرنا واجب ہے، پس اگر کتاب اللہ میں حکم مل جائےتو اسی پر عمل کیا جائے اور اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو پھر حدیثِ رسول میں تلاش کرو۔اگر حدیث رسول میں بھی نہ پاؤتو پھر اجتہاد کرو۔ ‘‘ اورایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب ہےجو مسئلہ معلوم نہ ہو تواس کے بارے میں یہ کہے: ’’ اَللہُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ ([4])
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ- (پ۸، الانعام:۱۵۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور، اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع