30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت………نہ نزدیک آئے رِیا یاالٰہی
میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ………مجھے اُن کے غم میں گھلا یاالٰہی
تو عطار کو سبز گنبد کے سائے ………میں کر دے شہادت عطا یاالٰہی
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نئی باتوں و نئے اُمُور سے مُمَانَعَت کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دین مکمل ہوچکا، اُس کے احکام ، اصول و ضوابط کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی لَارَیْب کتاب قرآنِ مجید فرقان حمید میں تفصیلاًبیان فرمادیا۔جس مسئلے کا حل قرآن میں نہ ملے اس کی وضاحت محسنِ کائنات، شاہ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک اقوال و افعال میں موجود ہے۔ اَحکامِ شرعیّہ میں قرآن وسنت کو دو بنیادی اُصولوں کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اِجماع اُمَّت اور قیاسِ شرعی یہ دو اُصول بھی قرآن وسنت سے ماخوذ ہیں ۔یہ چاروہ اُصولِ شرعیّہ ہیں جن کی روشنی میں اب تک پیدا ہونے والے ہر جدید مسئلے کا حل عُلَماء وفُقَہَاء نکالتے رہے ہیں اور قیامت تک نکالتے رہیں گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ۔ لہٰذا کوئی جدید مسئلہ ہو یا قدیم ہر ایک کا تعلق اِن چاروں اُصولوں کے ساتھ ہی ہے البتہ دین کے اندر بعض ایسی نئی باتیں بھی پیدا ہوگئیں ہیں جو اِن چاروں اُصولوں میں سے کسی نہ کسی اُصول کے خلاف ہیں ، اُنہیں بدعت سیئہ (یعنی نئے پیدا ہونے والے خلافِ شرع کام) بھی کہا جاتا ہے، اِن کی شریعت میں سختی کے ساتھ ممانعت ہے۔دین میں نئی پیدا ہونے والی اچھی اور بُری باتوں کے اَحکام جاننا بہت ضروری ہے۔
ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ نئی باتوں اور نئے اُمورسےممانعت ‘‘ کاہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےا س باب میں 5آیاتِ کریمہ اور 2 احادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ، اس باب میں بدعت کی تعریف، بدعت کی اقسام اور اُن کے مختلف اَحکام، مختلف دینی اُمور کی بدعت کے حوالے سے مفصل وضاحت کی جائے گی، پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتاہے:
فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- (پ۱۱، یونس:۳۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔
عَلَّامَہ بَیْضَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ یہاں پرمَااِستفہامِ انکاری ہےیعنی حق کے بعدگمراہی ہی ہےاورجس نے اس حق میں کوتاہی کی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت ہے تو وہ گمراہی میں پڑا ۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی مخلوق سے فرمارہا ہے :اے لوگو! یہ وہ افعال ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کرتا ہے، پس وہ تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے، وہی کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے، وہ ہی ہے جو زندہ کو مُردہ سے اور مُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تدبیریں فرماتاہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارا ربّ ہے، اس میں کوئی شک نہیں : ( فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- ) تو حق کے علاوہ ہر چیز گمراہی ہے۔ پس جب حق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع