30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :
(1) سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کومعراج میں بلاواسطہ عطا ہوئیں اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لامکان میں پہنچ کر یہی دعائیں مانگیں ۔
(2) امام بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نقل کیاکہ ربّ تعالی نے آسمانوں وزمین کی پیدائش سے دو ہزار 2000سال پہلے ایک کتابِ خاص (یعنی لوحِ محفوظ) تحریر فرمائی۔ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اسی کتاب خاص کی ہیں ۔
(3) امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سَیِّدُنَا عُقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھا کرو کہ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے خاص طور پر عرش کے نیچے سے عطافرمائیں ، مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہ ملیں ۔ ‘‘
(4) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو آپ کو تین چیزیں عطا ہوئیں : پانچ نمازیں ، سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور ہرمومن کی بخشش۔
(5) حضرت سَیِّدُنَا امام حاکم وامام بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَاسَیِّدُنَا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ سرکا رنامدا، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے جن آیتوں پر سورۂ بقرہ ختم فرمائی وہ عرش کا خزانہ ہیں ، اُنہیں خود بھی سیکھو اور اپنے بیوی بچوں کو بھی سکھاؤ، یہ صلوٰۃہیں ، یہ قرآن ہیں ، یہ دعائیں ہیں ۔ ‘‘
(6) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’ بڑابیوقوف ہے وہ شخص جو سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں نہ پڑھے۔ ‘‘
(7) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ جو کوئی نمازِ عشاء کے بعد سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھےاُسے پوری رات عبادت کا ثواب ملتاہے۔ ‘‘
(8) حضرت سَیِّدُنَا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ حضور پرنور، شافع یوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چارچیزیں وہ دیں گئیں جو کسی پیغمبر کونہ دی گئیں :سورۂ بقرہ کے آخری رکوع کی تین آیتیں اور آیۃ الکرسی۔ ‘‘
(9) فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’ جو کوئی سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھ لیاکرے تو اسے رات بھر شیطان اور دیگر آفات سے پناہ ملے گی اور تمام رات کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ ‘‘
(10) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایاکہ ایک روز سَیِّدُنَا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرتھے کہ اچانک اوپر سے سخت آواز آئی۔ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِس وقت آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہےجو آج تک کبھی نہیں کھلا۔ ‘‘ ابھی یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ ایک فرشتہ حاضر ہوا۔ سَیِّدُنَا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ’’ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ وہ فرشتہ ہے جو آج تک کبھی زمین پر نہیں آیا۔ ‘‘ اُس فرشتے نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ کو اُن دو نوروں کی مبارک باد دینے آیا ہوں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملے۔ایک سورۂ فاتحہ اوردوسرا سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ، اِس کے پڑھنے والے کی ہرتمناپوری ہوگی۔
(11) سورۂ بقرہ ختم کرکے آمین کہنا چاہیٔےکیونکہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں ۔
(12) اگردفن کےبعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع مُفْلِحُوْنَ تک اور قبرکی پائنتی کی طرف سورۂ بقرہ کاآخری رکوع پڑھاجائےتو میت کو قبر میں راحت ہوگی۔
(13) جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے وہاں تین دن تک شیطان نہیں آتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع