30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ (ہم) کرے تو اُسے نہ لکھو، اگر وہ اُس برائی کو کرلے تو ایک گناہ لکھ دو، اور جب وہ کسی اچھائی کا ارادہ (ہم) کرے تو ایک نیکی لکھ دو اور اگر وہ اس اچھائی کو کرلے تو اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دو۔ ‘‘ ([1])
تفسیر خازن میں ہے کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات دو طرح کے ہیں :
(۱) وہ خیالات جو انسان بذات خود اپنے دل میں لاتا ہے اور پھر اُن پر عمل پیرا ہونے کا پختہ اِرادہ کرلیتا ہے یہ وہ خیالات ہیں جن پر انسان کی پکڑ ہوگی۔
(۲) وہ خیالات جو غیر اختیاری طور پر انسان کے دل میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اُن میں اِس کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن وہ اُن خیالات کو ناپسند کرتا ہے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کا اُس کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا تو اس طرح کے خیالات معاف ہیں اور اُن پر اِس کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ ([2])
خطا ، نسیان اور جبری کام پر مؤاخذہ نہیں :
حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری اُمَّت کی خطا ، بھول اور جس کام پر اُسے مجبور کیا گیا ہو اِن تمام سے درگزر فرمادیا ہے۔ ‘‘ ([3])
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر284میں ارشاد ہوتا ہے: ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اے ربّ ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔ ‘‘ حضرت علامہ حافظ ابن جریر طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سَیِّدُنَا ابن جریج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں : ’’ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم پر کوئی ایسا عہد نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے اور جسے پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جیسا تونے ہم سے قبل یہود ونصاری پر عہد ڈالا ، جسے انہوں نے پورا نہ کیا تو تُو نے انہیں ہلا ک کردیا۔ ‘‘
بعض مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیا ہےکہ: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم پر گناہوں والا ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تونے پچھلی اُمَّتوں پر ڈالا تھا کہ تُو ہمیں بھی ان گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کر مسخ کردے جیسا انہیں ان کے گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کرمسخ کردیا تھا۔ ‘‘ ([4]) ’’ بنی اسرائیل میں جب کسی شخص کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو کپڑوں کے اُس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔ ‘‘ ([5]) ’’ بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا تھا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کردو، سو وہ اپنے آپ کو قتل کردیتا تھا۔ ‘‘ ([6]) ’’ زکوٰۃ چوتھائی مال میں سے ادا کرنا فرض تھا۔ ‘‘ ([7])
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی تفسیر ِ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں کہ: ’’ انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں :
* ایک بطور وسوسہ کہ اُن سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مَقْدِرَت (طاقت واختیار) میں نہیں ، لیکن وہ اُن کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا اِرادہ نہیں کرتا
[1] مسلم، کتاب الایمان، باب اذاھم العبد بحسنۃ۔۔۔الخ،ص۷۹، حدیث: ۱۲۸۔
[2] تفسیر خازن، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۴،۱ / ۲۲۴۔
[3] ابن ماجۃ، کتاب الطلاق، باب طلاق المکرہ والناس، ۲ / ۵۱۳، حدیث: ۲۰۴۳۔
[4] تفسیر طبری، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۶،۳ / ۱۵۷۔
[5] ابن ماجۃ، کتاب الطھارۃ، باب التشدید فی البول، ۱ / ۲۱۷، حدیث: ۳۴۶۔
[6] تفسیر درمنثور، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۵،۲ / ۱۳۶۔
[7] تفسیر بیضاوی، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۶، ۱ / ۵۸۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع