30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) یہ آیت مبارکہ مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ وسوسہ اور بُرے خیالات جو بغیر اختیار دل میں پیدا ہوں وہ معاف ہیں اُن کا حساب نہیں اور بُرے اِرادے جس میں انسان عمل کرنے کا قصد بھی کرے مگر کسی مجبوری سے نہ کرسکے اس پر پکڑ ہے۔ کفر کا ارادہ کفر ہے، گناہ کا اِرادہ گناہ ہے۔ لہٰذا اس معنی سے یہ آیت مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔ ‘‘ ([1])
(۳) یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہے البتہ دوسری آیت نے اس کے عموم میں تخصیص کردی۔ چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہےاوریہ دل میں پائےجانے والےتمام خیالات کو شامل ہے چاہےوہ اختیاری ہوں یا غیراختیاری ۔پھر دوسری آیت نے اس کو (فقط اختیاری خیالات کے ساتھ) خاص کردیا۔ ‘‘ ([2])
ذہن میں وارد ہونے والے پانچ اُمور:
علامہ صاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذہن میں وارد ہونے والے خیال کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں :
(۱) ہاجس: اچانک کسی بات کا ذہن میں خیال آنا اور فوراً اس کا ذہن سے چلے جانا۔
(۲) خاطر: کسی چیز کا اس طرح خیال آنا کہ کچھ عرصہ اس کا خیال ذہن میں بھی باقی رہے۔
(۳) حدیث نفس: جس چیز کا خیال آئے ذہن اس چیز کی طرف راغب بھی ہو اور اسے پورا کرنے یا حاصل کرنے کے لیے کوشش بھی کرے۔ذہن میں آنے والے ان تینوں امور پر کوئی پکڑ نہیں ہوتی اگرچہ ان کا تعلق خیر سے ہو یا شرسے۔
(۴) ہم: کسی چیز کو حاصل کرنے کا خیال آیا اور ذہن زیادہ اس بات کی جانب مائل ہے کہ اسے حاصل کیا جائے البتہ تھوڑا سا یہ خیال بھی ہے کہ اسے حاصل نہ کیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے اس میں کوئی نقصان ہو۔اگر کسی نیکی کا خیال اس طرح آئے تو اس پر ثواب ملے گا لیکن گناہ کا خیال آئے تو اس پر کچھ نہیں ۔
(۵) عزم: پختہ اِرادہ عزم کہلاتا ہے۔ جب ذہن کسی چیز کے حصول کے لیے پختہ اِرادہ کرلے، نفس کو اس کی جانب مائل کرلے اور اس کے حصول کی نیت بھی کرلےتو یہ عزم کہلاتا ہے۔ اس صورت میں اگر نیکی کا ارادہ ہے تو اس پر ثواب ملے گا اور گناہ کا ارادہ تھا تو اس پر پکڑ ہوگی، اگرچہ کسی سبب سے وہ اس گناہ کو نہ کرسکا۔ ‘‘ ([3])
ذہن میں وارد ہونے والے مذکورہ بالا پانچوں اُمور کو اس مثال سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلا ًکسی شخص کے ذہن میں اپنے دشمن کو قتل کرنے کا خیال آیا تو یہ خیال ’’ ہاجس ‘‘ ہے، اب اگر یہ خیال اس کے دل میں بار بار آئے اور کچھ عرصہ تک باقی رہے تو یہ ’’ خاطر ‘‘ ہے، جب اس کا ذہن اس کے قتل کی طرف راغب ہو اور وہ اس کی منصوبہ بندی کرے کہ میں فلاں فلاں آلے سے اس کو قتل کروں گاتو یہ ’’ حدیث نفس ‘‘ ہے۔ جب وہ اس کو قتل کرنے کا ایسا ارادہ کرلے کہ غالب جانب اس کے قتل کی ہو اور تھوڑا سا یہ خیال بھی ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں اس لیے قتل نہ کروں تو بہتر ہےتو یہ ’’ ہم ‘‘ ہے۔ ان چاروں صورتوں تک بندے پر مواخذہ نہیں ہوگا۔جب تھوڑا سا یہ خیال بھی نہ ہو اور ذہن سو ۱۰۰فیصد اس کے قتل کرنے کی نیت کرلے تو یہ ’’ عزم ‘‘ ہے۔ اس عزم پر مؤاخذہ ہوگا اگرچہ بندہ کسی سبب سے اپنے دشمن کو قتل نہ کرسکے، مثلاً وہ قتل کرنے گیا اور معلوم ہوا کہ اس کا دشمن اپنی طبعی موت مرچکا ہے یا اسے کسی اور نے قتل کردیا ہے۔ لیکن اُس شخص نے چونکہ اُس کو قتل کرنے کا پختہ اِرادہ کرلیا تھا اِس لیے اِس پر اُس کی گرفت ہوگی۔
اچھائی و برائی کا اِرادہ اور اُن کا اجر:
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع