30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوں جن کا میرے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ نے حکم دیا ہے۔ ‘‘ پھر وہ کہنے لگا: ’’ اے شخص! مجھے میرے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے ہماری ملاقات کرائی! تیرا یہ پوچھنا مجھے بہت عجیب لگا اور تیرے اس سوال پر مجھے بہت غصہ آیا لیکن اب میرا غصہ زائل ہوچکاہے ، اب ایسا کرو کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔ ‘‘ میں نے اس نیک بندے سے عرض کی : ’’ مجھے کچھ نصیحت کیجئے تا کہ اس پر عمل کر کے دارَین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجاؤں ۔تمہاری نصیحت بھری باتیں سننے کے بعد میں یہاں سے چلا جاؤں گا ۔ ‘‘ یہ سن کر و ہ شخص بولا: ’’ جب کوئی شخص کسی کے دروازے پر ڈیرہ ڈال دے اور اس کی غلامی کرنا چاہے تو اس شخص پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے مالک کی خوشنودی والے کا موں میں لگا رہے۔جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھتا ہے اسے گناہوں پر شرمندگی نصیب ہوتی رہتی ہے (اور گناہوں پر نادم ہونا تو بہ ہے، لہٰذا انسان کو ہر وقت اپنے گناہوں پر نظر رکھنی چا ہے) جوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکُّل کر لیتا ہے اور اپنے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحیم وکریم ذات کو کافی سمجھتا ہے وہ کبھی بھی محروم نہیں ہوتا۔ اسے ربّ تعالٰی ضرور عطا فرماتا ہے ، بس انسان کا یقین کامل ہونا چاہیے ۔ اگر یقین کا مل ہوگا تو وہ کبھی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہ ہوگا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا ابو صالح دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ اتنا کہنے کے بعد اس شخص نے مجھے وہیں چھوڑا اور خود ایک جانب روانہ ہوگیا ۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سُبْحَانَ اللہ!اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے نیک شخص کی کیسی نصیحت بھری گفتگو تھی، اُس کے اِن چند کلمات میں دنیا وآخرت کی بھلائی کے بہترین اُصول موجود ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی ہر حال میں اپنے اور اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مطیع وفرمانبردار رکھے، ہمیں گناہوں پر نادم ہونے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ آمین
ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہو جاتا
ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:168
ربّ تعالٰی طاقت سےزیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-) اِشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَ تَوْا رَسُوْلَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوْا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوْا:اَيْ رَسُوْلَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا نُطِيْقُ:الصَّلَاةَ وَالْجِهَادَ وَالصِّيَامَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيْقُهَا.قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَقُوْلُوْا كَمَا قَالَ اَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُوْلُوْا:سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ.فَلَمَّا اقْتَرَاَهَا الْقَوْمُ، وذَلَّتْ بِهَا اَلْسِنَتُهُمْ، اَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی فِي اِثْرِهَا (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵) ) فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: ( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ ( رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-) قَالَ: نَعَمْ (وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶) ) قَالَ: نَعَمْ. ([2])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر یہ آیت کریمہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع