30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب کے حاکم ہیں
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۶۵) ( پ۵، النساء :۶۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے ربّ کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔
صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ معنیٰ یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صِدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے۔ سُبْحَانَ اللہ اس سے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان معلُوم ہوتی ہے۔شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آب رسانی کرتے ہیں اس میں ایک اَنصاری کا حضرت زُبَیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا: اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۔یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں ۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اَنصاری کے ساتھ اِحسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن اَنصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو، انصافاً قریب والاہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ‘‘ ([1])
رسول اللہ کے حکم کا منکر اِسلام سے خارج ہے:
تفسیر روح البیان میں ہے: ’’ اس آیت مبارکہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاحکامات میں سے کسی حکم کا انکار کیا تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، خواہ اس نے شک کی بنیاد پر یہ انکار کیا ہو یا نافرمانی و بغاوت کے طور پر۔ نیز یہ آیت عہد صدیقی میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےاُس مؤقف کے صحیح ہونے کی دلیل بھی ہے جس میں انہوں نےمانعین زکوٰۃ کو مرتد قرار دینے اور انہیں قتل کرنےاور ان کی اولاد کو قید کرنے کا حکم دیا۔ (کیونکہ ان مانعین زکوۃ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم ادائے زکوۃ کا انکار کیا تھا۔) پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع فرائض عین میں فرضِ عین، فرائضِ کفایہ میں فرض ِ کفایہ، واجبات میں واجب اورسنتوں میں سنت اور اسی طرح دیگر احکام۔ نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت سے اسلام کی نعمت چھن جاتی ہے۔ ‘‘ ([2])
(2) فلاح پانےوالےلوگ کون ہیں ؟
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۵۱) (پ۱۸، النور: ۵۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔
عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : مسلمانوں کو جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی طرف بلایا جائے تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کریں تو انہیں چاہیے کہ وہ کہیں : ’’ ہم نے سنا جو ہمیں کہا گیا اور ہم نےاس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع