30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) شریعت کی اتباع میں ذاتی پسند یا نا پسند کا کچھ دخل نہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو ارشادفرمادیں اس کی تابعداری ضروری ہے ۔
(2) حجرِ اسودقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ، زبان اوردو ہونٹ ہوں گے، یہ اس شخص کے بارے میں گواہی دے گاجس نے اس کا بحالت ایمان استلام کیا ہوگا ۔
اے ہمارے پیارےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں شرختم کرنے اور خیر عام کرنے کی توفیق عطافرما، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما، باربار حج کی سعادت عطافرما ، روضۂ رسول کی باادب حاضری نصیب فرما۔
آپ کے میٹھے مدینے میں پئے غوث ورضا
حاضری ہو یا نبی ہر بیکس ومجبور کی
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِطَاعَتِ خُدَاوَنْدِی کا بیان
اِطاعتِ خداوندی کا وجوب اور اِس بات کا بیان کہ جسے ربّ تعالی کی اِطاعت کی طرف بلایا جائے
اور بھلائی کا حکم دیا جائےیابرائی سے منع کیا جائےتواُس شخص کا جواب کیاہونا چاہیے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام ایک مکمل دین ہے، یہ دینِ اسلام ہی ہے جس میں پیدائش سے لے کر وفات تک کی دنیوی زندگی، وفات سے لے کر حشر تک کی اُخروی زندگی کے ہر ہر معاملے میں کامل واکمل رہنمائی فرمائی گئی ہے، دینِ اسلام انسان کی فکری وعملی دنیا کو سنوارنے، جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنیوں کی طرف لانے اور اِنسانیت کی بقاء کے لیے عملی نمونہ پیش کرنے والا واحد دِین ہے۔اپنے اسی رفعت وکمال، عزت وجلال کی بنا پر یہ دین تاقیامت دینِ اَبَدِی قرار پایا، خود ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں بھی یہی حقیقی دین ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتاہے: (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-) (پ۳، آل عمران: ۱۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ ‘‘ پھر ربّ تعالٰی نے اس دینِ فطرت کے ماننے والوں کو اپنی اور اپنے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کا حکم اِرشاد فرمایا: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ) (پ۵، النساء:۵۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کو اپنی اِطاعت قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- ) (پ۵، النساء: ۸۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا ۔ ‘‘ یہود ونصاریٰ اور کفار کا یہ شیوہ تھا کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کا حکم سنتے تو کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مخالفت کی لیکن مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کی بجاآوری میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائیاں موجود ہیں ۔ سمجھدار وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اَحکامِ شرعیَّہ پر عمل کرے اوراپنی آخرت کی تیاری میں مشغول رہے۔
ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ اِطاعت خداوندی ‘‘ کے متعلق ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےاس باب میں دو آیاتِ کریمہ، اور ایک حدیثِ مبارَکہ بیان فرمائی ہے، پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع