30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک میں ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ یہ رکن اسود یقیناً زمین میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یدِ رحمت ہے، اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندوں سے مصافحہ فرماتا ہے جیسے ایک شخص اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث میں ہے، جس نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیعت نہیں پائی اور حجر اسود کا بوسہ لے لیا تو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی۔ ‘‘
کیا ایک بندے کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کچھ ہوسکتی ہے اور کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ رہ گیا حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وہ ارشاد کہ اے حجر اسود تو نفع نقصان نہیں دیتا۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ انہیں یہ تمام احادیث نہیں پہنچی تھیں اور ابھی لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، بت پرستی سے قریب العہد تھے، عہد جاہلیت میں بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد تھا کہ یہ مستقل بالذات نافع اور ضار یعنی نفع ونقصان دینے والے ہیں ، اس کا اندیشہ تھا کہ کہیں یہ اعتقادِ بد حجراسود کے بارے میں مسلمانوں میں نہ پیدا ہوجائے، اس کے ازالے کے لیے وہ فرمایا۔ مگر جب حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے خود حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد بتایا تو تسلیم فرمالیا۔ اس لیے اب ان کے اس ارشاد کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ حجر اسود نفع وضرر نہیں پہنچاتا درست نہیں ۔ ‘‘ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(1) اس کامس کرنا (یعنی چھونا) گناہوں کومٹاتاہے۔ (2) اعلانِ نبوت سے پہلے بھی یہ پتھر مبارک شاہِ خیر الانامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام کہتا تھا ۔ (3) اس پتھر شریف کو پھر ایک مرتبہ اپنی اصل شکل پر کردیاجائےگا۔ (4) قیامت کے دن اس کا حَجْم (یعنی جسامت) جبلِ اَبی قُبَیْس جتنا ہوگا۔ ([2])
تفسیرنعیمی میں ہے :یہ جنتی پتھر ہے، حدیث شریف میں ہےکہ رُکن اور مقام (ابراھیم) دو”جنتی یاقوت“ہیں ۔ پہلےبہت نورانی تھے۔ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) نے ان کا نورمحوکردیا (یعنی چھپادیا) اگر ایسانہ ہوتاتویہ مشرق ومغرب کو چمکاتے ۔ایک اور روایت میں ہے:جب سنگِ اسود دیوارِکعبہ میں قائم کیاگیاتواس کی روشنی چاروں طرف دُور تک جاتی تھی جہاں تک اس کی روشنی پہنچی وہاں تک حرم کی حدود مقررہوئیں جس میں شکارکرنامنع ہے اور سنگِ اَسود کا رنگ بالکل سفید تھا گناہ گاروں کے ہاتھوں سے سیاہ ہوگیا۔ ([3])
حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحجرِ اسود کےبارے میں ارشاد فرمایا: ’’ اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!بروزِ قیامت اس پتھرکو اٹھایاجائےگا، اس کی دوآنکھیں ہوں گی جس سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے بولے گااور جس نے حق کے ساتھ اس کا استلام کیا یہ اس کی گواہی دےگا۔ ‘‘ ([4])
کالک جَبیں کی سجدۂ دَر سے چُھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے
مدنی گلدستہ
’’ مکہ ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حَجر ِاَسودشعائر اسلام میں سے ہے ، اس کی تعظیم حکِم ربّانی کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع