30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئے واضح کر دیا کہ حجر اسود کو چومنا صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم اورحضور نبی کریم ، رؤف و رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ شعائر حج میں سے ہے جن کی تعظیم کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حکم دیا ہے۔پس اس کا چومنا بتوں کو چومنے کی طرح نہیں ہے ۔ ‘‘ ([1])
حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا، پھر اپنے ہونٹ مبارک اس پررکھ کر بہت دیر تک روتے رہے، پھر حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ۔ تو فرمایا: ’’ اے عمر! یہی جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
سَیِّدُنَا فاروق اعظم اورفتنے کا سَدباب:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حجر اسود سے فرمایا:میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔یعنی دنیامیں ظاہرًا ایک پتھر ہے کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچاسکتا۔اگرمیں نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ اس لیے فرمایاکہ لوگوں کے دلوں سے بتوں اور پتھروں کی محبت وعظمت نکل جائے کیونکہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لیے اس بات کا اندیشہ تھاکہ اس پتھرکی عبادت کے فتنے میں مبتلانہ ہوجائیں ۔ ‘‘ ([3])
فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث مختلف اَلفاظ اور کچھ زیادتی اور کمی کے ساتھ حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس، حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر، حضرت سَیِّدُنَا عُروہ، حضرت سَیِّدُنَا اَسلم، حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن سرجس، حضرت سَیِّدُنَا سُوید بن غفلہ، حضرت سَیِّدُنَا عابس بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے مروی ہے۔ امام حاکم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مستدرک میں حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی، اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حجر اسود سے تخاطب فرماکر بوسہ لیا تو اس پر حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’ اے امیر المؤمنین! بلا شبہ یہ حجر اَسود ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی پہنچاتا ہے۔ ‘‘ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا: ’’ کیسے؟ ‘‘ تو فرمایا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن حجر اسود کو لایا جائے گا اور اس کی شستہ زبان ہوگی، جس نے اس کا توحید کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کے بارے میں گواہی دے گا۔ اس لیے امیر المؤمنین وہ ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی قوم سے جس میں اے ابوالحسن تم نہ ہو۔ ‘‘
امیر المؤمنین سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی اس حدیث پاک کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ حجر اسود جب جنت سے آیا تھا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔ ‘‘ ایک روایت میں یوں ہے: ’’ فرمایا کہ ان دونوں رُکن (رُکن یمانی اور رُکن حجر اسود) کا چومنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ ‘‘
اِن احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ حجر اسودنفع دیتا ہے، جس نے ایمان کے ساتھ اس کا بوسہ لیا ہے، اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا، کیا یہ معمولی نفع ہے؟ بوسہ دینے والوں کے گناہوں کو مٹاتا ہے، کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ ابن ماجہ میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سن کر فرمایا: ’’ جس نے اس حجر اسود کا بوسہ لیا وہ رحمٰن کے یدِقدرت کا بوسہ لیتا ہے۔ ‘‘ ایک اور حدیث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع