30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قطع تعلق کر نے کے بارے میں وضاحت:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن مغفلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کنکر پھینکنے والے کو حدیث نبوی سنا کر اس کام سے منع فرمایا لیکن وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا : ’’ اب میں تجھ سے کبھی بات نہ کروں گا۔“ حدیث مذکور کے اس حصے کے تحت عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس میں اہل بدعت، اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والے سےقطع تعلقی کرنے پر دلیل ہےاوران سےدائمی طورپرقطع تعلق کرنا بھی جائز ہےاور تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرنے سے جو منع کیاگیاہے وہ ان لوگوں کے لیےہےجو اپنے نفس اور دنیا کی وجہ سے قطع تعلقی کرتےہیں بہرحال بدعتی اور اس قسم کےلوگوں سےہمیشہ کے لیے قطع تعلق کرناچاہیے۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اسلام لایعنی و فضول کاموں سے منع کرتاہے اورایسے اچھے کاموں کی تعلیم دیتاہے جن سے انفرادی یا اجتماعی فائدہ ہو۔
(2) بِلاضرورت کنکرہوا میں اچھالنا، دوسروں کی جانب پھینکنا، درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کی طرف پھینکنادرست نہیں کہ اس میں نقصان کا اندیشہ ہے، فائدہ کچھ نہیں ۔
(3) اہلِ بدعت، اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والوں سے دائمی قطع تعلق جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(4) بلا وجہ شرعی کسی ذاتی رنجش، نفسانی خواہش یا دنیا کے لیے کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق ممنوع ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں فضول اور بےکار کاموں سےبچنےاوراپنی رضاوالےکام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :167
عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيْعَةَ قَالَ:رَاَ یْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ یُقَبِّلُ الْحَجَرَ یَعْنیِ الْاَسْوَدَ وَیَقُوْلُ: اِنِّي اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا اَنِّي رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عابِس بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ میں نےحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے : ’’ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہےجو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔اگر میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ ‘‘
سَیِّدُنَافاروق اعظم کے قول کی توجیہ:
عمدۃُ القاری میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےفرمان کی وضاحت کرتے ہوئےحضرت سَیِّدُنَا امام طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اہل عرب بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔جب حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حجر اسود کو بوسہ دیا تو آپ کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ جاہل یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ جس طرح ہم بُتوں کو پوجتے ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی بتوں کی تعظیم کرتے اور انہیں چومتے ہیں ، لہٰذاآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ا ن کا رَد کرتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع