30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں روزِ محشر اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گران کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:166
عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ عَبْدِاللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: نَهَى رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا يَنْكَاُ الْعَدُوَّ، وَاِنَّهُ يَفْقَاُ الْعَيْنَ، وَيَكْسِرُ السِّنَّ. ([1])
وَفیِ رِوَایَۃٍ: اَنَّ قَرِیْبًا لِاِبْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهَا لَاتَصِيْدُ صَيْدًا، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: اُحَدِّثُكَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ؟ لَا اُ کَلِّمُکَ اَبَدًا. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید عبداللہ بن مُغَفَّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکنکر مارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ نہ تو یہ شکار کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کومارسکتے ہیں ، بلکہ یہ آنکھیں پھوڑدیتے ہیں اور دانت توڑدیتے ہیں ۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابن مُغَفَّلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےایک رشتہ دار نے کنکر مارے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاسے منع کرتے ہوئےفرمایا: ’’ بیشک سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکرمارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ اس سے شکار نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ پھر اس نے دوبارہ کنکر مارے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : میں نے تجھے بتایاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے تُو پھر بھی کنکر مارتا ہے! اب میں تجھ سے کبھی کلام نہ کروں گا۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکر مارنے سے منع فرمایاکیونکہ اس سے نہ تو دشمن مرتاہےاور نہ ہی شکار مارا جاتاہےبلکہ اس سے کسی کی آنکھ پھوٹ سکتی ہے یا دانت ٹوٹ سکتا ہے۔لہٰذاکنکرپھینکنے میں کوئی مَصْلِحَت نہیں ہے، بلکہ فساد کاخوف ہےاور ہر وہ کام جو اس کے مشابہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اس میں تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ضرورتاً کنکر پھینکنا جائز ہے مثلاًدشمن سےلڑتے وقت یا شکار کرتے وقت اگر حاجت ہو تو جائز ہے۔پرندوں کو غُلیل سے مارنا بھی اسی حکم میں داخل ہےکیونکہ اگر کسی بڑے پرندے کو غُلیل سے مارا جائے تو غالب یہی ہے کہ وہ اس سے نہیں مرتا۔ ہاں اس پرندے کو زندہ پکڑ لیا جائے تو یہ جائز ہے۔ ‘‘ ([3])
حضرت سَیِّدُنَاابن ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ کنکر پھینکنے سے منع کرنااس وجہ سے تھا کہ ا س میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس سے فساد کا خوف ہے۔لہٰذا ہر وہ چیز جو کنکر کی مثل ہے اس سے کھیلنا منع ہےاور وہ اس حدیث کےتحت داخل ہے۔ ‘‘ ([4])
[1] بخاری،کتاب الادب،باب النھی عن الخذف،۴ / ۱۶۱،حدیث: ۶۲۲۰۔
[2] مسلم،کتاب الصیدوالذبائح،باب اباحۃ مایستعان بہ علی الاصطیاد۔۔الخ،ص۱۰۸۰،حدیث: ۱۹۵۴بتغير ۔
[3] عمدۃ القاری،کتاب تفسیرالقراٰن،باب قولہ اذیبا یعونک تحت الشجرۃ،۱۳ / ۳۲۳،تحت الحدیث: ۴۸۴۱۔
[4] مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدیات،باب مالایضمن من الجنایات،۷ / ۷۸،تحت الحدیث: ۳۵۱۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع