30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غزالی زماں ، رازی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ احادیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو اپنی اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال کا علم ہے، ترمذی (ومسلم) شریف میں حدیث وارد ہے: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُھَا وَقَبِیْحُھَا یعنی میری اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال مجھ پر پیش کیے گئے۔اب غور فرمائیے کہ مرتدین بھی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اُمَّت میں داخل تھے اُن کا مرتد ہونا عملِ قبیح ہے۔اَعَاذَنَا اللہُ تَعَالٰی مِنْہُ۔ جب اُمَّت کے تمام اعمالِ حسنہ اورقبیحہ حضور کے سامنے پیش کیے گئے تو ان کا اِرتداد جو عملِ قبیح ہےوہ بھی ضرور پیش ہوا، پھر حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کےعملوں کا علم نہ ہونا کیونکر صحیح ہوسکتاہے؟ معلوم ہوا کہ حدیث مذکور کے یہی معنی صحیح ہیں کہ اے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا عمل کیے؟ آپ کو معلوم تو ہے پھر بھی آپ غلبۂ رحمت کے حال میں ان کو اپنی طرف لے جارہے ہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ جب کریم کو سخاوت کرنے کے لیے بٹھادیا جائے تو اس وقت اس کے دریائے سَخَا میں ایسا جوش ہوتا ہے کہ دشمن کی دشمنی کی طرف اس کی توجہ نہیں رہتی اور وہ بے اختیار اپنے کرم کا دامن اس کی طرف پھیلا دیتا ہے اور جب اسے توجہ دلائی جائے تو اس وقت متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں بالکل یہی معاملہ ہے ، ساقی کوثر حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم حوض کوثر پر رونق افروز ہیں ، اپنے غلاموں کو چھلکتے ہوئے جام پلارہے ہیں ، مرتدین کی جماعت ادھر سے گزرتی ہے، حضور کو ان کے عملوں کا پورا پورا علم ہے مگر اس وقت دریا ئے جودوسخا موجزن اور شانِ رحمت کا ظہورِ اَتَمّ ہے، اس لیے ان کی بداعمالیوں کی طرف خیال مبارک جاتا ہی نہیں اور اپنے لطف عمیم اور کرمِ جسیم کے غلبۂ حال میں بے اختیار فرمادیتے ہیں : ’’ اُصَیْحَابِیْ اُصَیْحَابِیْ ‘‘ لیکن جب توجہ دلائی جاتی ہے کہ اَمَا شَعَرْتَ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ پیارے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ پس فورا توجہ مبارکہ ان کی بداعمالیوں کی طرف مبذول ہوتی ہے اور ارشاد فرماتے ہیں : ’’ سُحْقًا سُحْقًا انہیں دور لے جاؤ، دور لے جاؤ۔ ‘‘ طالبِ حق کے لیے اس حدیث کا صحیح مطلب سمجھنے کے لیے یہ بیان کافی ہے۔ ‘‘ ([1])
(2) زیادہ تر احادیث میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ یعنی آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا بدعات نکالی ہیں ۔ ‘‘ اس حدیث پاک میں درایت کی نفی ہےاور درایت کے معنی ہے کسی چیز کو اٹکل اور حیلے سے جاننا۔ یقیناً رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اٹکل اور حیلے سے علم نہیں ہے بلکہ آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا اور وحی الٰہی سے سب چیزوں کا علم ہے۔
(3) جس حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے خود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے قیامت کے اس منظر کو بیان فرمارہے ہیں ، جب آپ خود بیان فرمارہے ہیں تو یقیناً آپ جانتے ہیں کہ کل بروزِ قیامت کن لوگوں کے بارے میں آپ سے کہا جائے گا۔
(4) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ فرشتوں کا یا ربّ تعالی کا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے، ان مرتدین پر اظہار غضب کے لیے ہے، جیسے بلا شبہ باپ بیٹے کو مارنے لگے، ماں جو اس سے سخت نالاں تھی، محبت مادری میں بچانا چاہے، باپ کہے: تُو اس کی حیثیت کو نہیں جانتی، اسے تو میں ہی جانتا ہوں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے مت بچا، مجھے سزاد دے لینے دے۔ ربّ تعالی منافقین کے متعلق فرماتا ہے: (لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ- ) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱) انہیں تم نہیں جانتے، ہم جانتے ہیں ، حالانکہ حضور منافقین کو خوب جانتے تھے، (ربّ تعالیٰ) فرماتا ہے: (وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-) (پ۲۶، محمد: ۳۰) تم انہیں کلام کی روش سے ہی پہچان لیتے ہو۔ ‘‘ ([2])
قیامت میں کن لوگوں کو لایا جائے گا؟
مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ کل بروزِ قیامت کچھ لوگوں کو لایا جائے گا؟ یہ لوگ کون ہوں گے؟ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جن لوگوں کو سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دور کریں گے اس میں کئی اقوال ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع